کسر صلیب — Page 282
و رحمتی وسعت کل شیی (شش اپس اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رحمت عام اور وسیع ہے اور غضب یعنی عدل بعد کسی خصوصیت کے پیدا ہوتی ہے۔یعنی یہ مفت قانونِ اپنی سے تجاوز کر نے کے بعد اپنا حق پیدا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ عدل کو رحم کے ساتھ کچھ بھی علاقہ نہیں تھ یعنی رحم کا مقام عدل سے بہت بلند ہے اور خدا کی صفت عدل نہیں بلکہ وہ تو رحیم ہے مجسم رحمت ہے۔پس اس سار سے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارہ کا اصول اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ رحم بلا مبادلہ نہیں کیا جا سکتا۔حالانکہ یہ بات غلط ہے۔خدا رحم بلا مبادلہ کرتا ہے اور کر سکتا ہے یہی اصول سیحی تعلیمات سے بھی ثابت ہوتا ہے۔پس کفارہ کا عقیدہ باطل ہے۔چودھویں دلیل کفارہ کو پیش کرتے ہوئے عیسائی یہ کہتے ہیں کہ یہ نجات کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو تمام بنی آدم کے لئے ہے لیکن اسکی مقابل پر حضرت مسیح علیہ اسلام کا یہ کہنا کہ میں صرف بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کے لئے بھیجا گیا ہوں ، ثابت کرتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کے لئے کفارہ نہیں ہوسکتے۔پس مسیح کا اپنا قول کفارہ کے اصول کو باطل ثابت کرتا ہے۔جہاں تک اس دعویٰ کا تعلق ہے کہ سنجات کا طریقہ تمام بنی آدم کے لئے ہے عقلاً ایسا ہی ہونا چاہیئے کیونکہ نجات کا جو بھی طریق ہو گا وہ سب کے لئے یکساں اور سب زمانوں میں ایک سا ہوگا۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ یہود کے لئے اور طریق ہو اور نصاری کے لئے اور پس عیسائیوں کا یہ قول کہ کفارہ سب بنی آدم کے لئے نجات کا ذریعہ ہے نجات کے اصول کے عالمگیر ہونے کے پہلو سے تو درست ہو سکتا ہے لیکن یہ دعویٰ اپنی ذات میں اس وجہ سے قابل غور ، قابل قبول یا قابل توجہ نہیں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا مشن عا نہیں تھا۔انہوں نے خود کہا ہے کہ : میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا ؟ دستی ) پس ہمارا استدلال یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جو رسولا الى بنی اسرائیل تھے وہ کس طرح ایک ایسی تعلیم پیش کر سکتے ہیں جو سب بنی آدم سے تعلق رکھتی ہو او روہ نجات کے حصول کے لئے اس تعلیم پر عمل کرنے کے پابند ہوں۔اول تو ان کا ایسی تعلیم کو پیش کر نا ہی غلط ہے کیونکہ اپنی حد سے تجاو نہ کر نے کے له :- جنگ مقدس ۱۲۵ جلد ه به