کسر صلیب — Page 284
۲۸۳ (1) ہیں۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں :- ہیں مسیح کا اپنی امت کی نجات کے لئے مصلوب ہونا اور امت کا گناہ ان پر ڈا لے جانا ایک ایسا ہمل عقیدہ ہے جو عقل سے ہزاروں کو اس دُور ہے یا اے " (۲) عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ زید اپنے سر پر پتھر مالہ سے اور کبر کی اس سے درد سر جاتی رہے۔تے (۳) تعجب کا مقام ہے کہ زید کی خود کشی سے بحرہ کو کیا حاصل ہوگا۔اگر کسی کا کوئی عز یہ اس سے گھر میں بیمار ہو اور وہ اس کے غم سے پھری مارے تو کیا وہ عزیز اس نابکار حرکت سے اچھا ہو جائے گا یا اگر مثلا کسی کے بیٹے کو درد قولنج ہے تو اس کا باپ اس کے غم میں اپنا سر پتھر سے پھوڑے تو کیا اس احمقانہ حرکت سے بیٹا اچھا ہو جائے گا۔سے (۴) " یہ ہنسی کی بات ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے سرور و پر رحم کر کے اپنے سر پہ پتھر تا ہے یا دوسرے کے بچانے کے خیال سے خود کشی کرے۔میرے خیال میں ہے کہ دنیا میں کو ایسا دانا نہیں ہو گا کہ ایسی خود کشی کو انسانی ہمدردی میں خیال کر سکتے۔بے شک انسانی ہمدردی بہت عمدہ چیز ہے اور دوسروں کے بچانے کے لئے تکالیف اٹھانا بڑ سے بہادروں کا کام ہے مگر کیا ان تکلیفوں کے اٹھانے کی یہی راہ ہے جو یسوع کی نسبت بیان کیا جاتا ہے۔کاش اگر یسوع خود کشی سے اپنے تئیں بچاتا اور دوسروں کے آرام کے لئے معقول طور پر عقلمندی کی طرح تکلیفیں اٹھاتا تو اس کی ذات سے دنیا کو فائدہ پہنچ سکتا ہے " سے (0) عقل بھی تسلیم نہیں کرتی کہ گناہ تو زید کر سے اور تجر پکڑا جائے اس مسئلہ پر انسانی گورنمنٹوں نے بھی عمل نہیں کیا " شد ه :- لیکچر سیالکوٹ صدا ۳ جلد ۲۰ + سعه - سیسکچھ لاہور ص جلد ۶۲۰ -- و - نور القرآن با حاشیه ۳۵ جلد ۹ : ص شه چشمه معرفت جلد ۲۳ : : - سراج دین عسیائی کے چار سوالوں کا جواب کہ جلد ۱۲ :