کسر صلیب — Page 281
بلکہ اس صورت میں تو خدا کا ایسا کرنا ایک لغو کام ٹھہرتا ہے۔تیرہویں دلیل تو اس جگہ ختم ہوئی لیکن یہاں اس امر کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ اسلام کا اس سلسلہ میں یہ اصول ہے کہ خدا تعالی رحم با مبادلہ کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔ہر روز اس کے رحم کے لاکھوں نظارے دیکھتے ہیں آتے ہیں اول تو عدل اس کی طرف عام مشہور معنوی میں منسوب ہی نہیں ہوسکتا کیونکہ عدل کرنے والا عدل کرنے پر مجبور ہوتا ہے وہ مالک نہیں ہوتا۔خدا کا مقام اس سے بہت بلند ہے وہ کسی دنیادی حاکم کی طرح نہیں کہ اس کے اوپر کئی اور حاکم ہوتے ہیں۔وہ تو سب حاکموں سے بالا ہے۔اسلام کی رو سے خدا تعالٰی کی صفت رحیم ہے اور یہی صفت اس کے عدل، سزا یا غصب پر مقدم - ہے۔اسلام کے نظریہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں :۔" واضافة العدل الحقيقى الى الله تعالى باطل لا أصل لها لان العدل لا يتصور الأبعد تصوّر الحقوق وتسليم وجوبها وليس لاحد حق على رب العالمين - الا ترى ان الله سخر كل حيوان الانسان و اباح دماءها لادنى ضر ورته - فلوكان وجوب العدل حقا على الله تعالى لما كان له سبيل لاجراء هذه الاحكام والأفكان من الجائرين ولكن الله يفعل ما يشاء في ملكوته۔۔۔۔۔۔فلما كان ملاك الامر الوعد والوعيد لا العدل العتيد الذى كان واجبا على الله الوحيد الهدم من هذا الاصول المنيف الممرد الذى بناه النصارى من اوهامهم فثبت ان ايجاب العدل الحقيقي الی اللہ تعالیٰ خیال فاسد و متاع کا سد لا يقبله الا من كان من المجاهدين ومن هنا تجد ان بناء عقيدة الكفّارة على عدل الله بناء فاسد على فاسد فتدبر فيه فانّه يكفيك لكسر الصليب النصارى ان كنت من المناظرين نیز فرمایا :- و مسلمانوں کا یہ اصول ہے کہ رحیم کی صفت عام اور اول مرتبہ پر ہے جو صفت عدل پر سبقت رکھتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قال عذابی اصیب به من اشاء : کرامات الصادقين طه - جلد :