کسر صلیب

by Other Authors

Page 274 of 443

کسر صلیب — Page 274

ہم کام نوعیت کا عقیدہ ہے اور کسی متضاد نوعیت کے عقیدہ کو درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اس عقیدہ کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام کا املعون ہونا ایک لانہ می امر ہے اس کے بغیر عیسائیوں کے نزدیک وہ نوع انسان کے گناہوں کا کفارہ ہو ہی نہیں سکتے (حضرت سیح کے ملعون ہونے کی تفصیل ہم گذشتہ دلیل کے تحت ذکر کر آئے ہیں ) ایک طرف تو عیسائیوں کا یہ اعتقاد ہے اور دوسری طرف وہ حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا ، خدا کا بیٹا اور ازنی ابدی طور پرمعصوم و بے گناہ خیال کرتے ہیں۔اب ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا لعنت اور الوہیت ایک جگہ پر اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ہرگزہ نہیں۔اگر حضرت مسیح علیہ السلام واقعی خدا تھے تو کیا پھر وہ معنی بھی بن گئے تھے۔اور اگر وہ لعنتی مانے جائیں تو کیا کوئی لعنتی وجود خدا ہو سکتا ہے۔یہ ایک ایسا عجیب تضاد ہے جو کفارہ میں پایا جاتا ہے اور جس کا عیسائی کوئی جواب نہیں دے سکتے۔پھر عیسائی لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کو پاک اور معصوم قرار دیتے ہیں اور ان کی اس قربانی کو پاکیزہ قربانی سمجھتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ یہ کیسی پاکیزہ قربانی ہے جس کا نتیجہ لعنت ہے۔کیا وہ قربانی جب کسی نتیجہ بند میں قربانی دینے اور اپنی جان گنوانے والا مردود اور ملعون ہو جاتا ہے کسی اور کوپاک کر سکتی ہے؟ ہر گز نہیں۔الغرض لعنت اور پاکیزگی کے اعتبار سے اس عقیدہ میں واضح اور بین تضاد پایا جاتا ہے جس میں تطبیق کی کوئی صورت نہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی بات کو بطور دلیل بیان فرمایا ہے۔آپ سیمی کفارہ کے تضاد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں :- :- (1) کس کس بات کو پیش کیا جاو سے ایک صلیب ہی ایسی چیز ہے جو ساری خدائی اور نبوت پر پانی پھیر دیتی ہے کہ جب مصلوب ہو کر ملعون ہو گیا تو کا ذب ہونے میں کیا باقی رہا ہے رہا ہے۔ایک ناچیز انسان کو خدا بھی کہتے ہیں اور پھر ملعون بھی " سے عیسائیوں کی اس خوش اقتصادی پر سخت افسوس آتا ہے کہ جب دل ہی ناپاک ہو گیا تو اور اد کیا باقی رہا وہ دوسروں کو کیا بچائے گا اگر کچھ بھی شرم ہوتی اور عقل و فکر سے کام لیتے تو مصلوب ن ملفوظات جلد سوم ص : سے: سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب مل جلد ۱۲ :