کسر صلیب — Page 275
۲۷۵ اور ملعون کے عقید سے کو پیش کرتے ہوئے یسوع کی خدائی کا اقرارہ کرنے سے ان کو موت آجاتی ایرانی ان تینوں حوالہ جات سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ کفارہ مسیح میں واضح تضاد ہے۔اس پر آ تضاد کی وجہ سے اس کفارہ کو درست قرانہ نہیں دیا جا سکتا بارہویں دلیل کفارہ کی تردیدمیں بارہویں دلیل یہ ہے کہ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جس کا کوئی ثبوت عیسائیوں کی کتاب سے نہیں ملتا۔عقلاً اور شرکا بہت ہی ضروری ہے کہ ایسے اہم عقیدہ کا جو عیسائیوں کے قول کے مطابق بنی آدم کی نجات کا واحد ذریعہ ہے، واضح طور پر اس کتاب میں ذکر ہوتا۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ عمل ایسا نہیں ہے۔یہ درست ہے کہ بائیبل کی چند آیات اس ضمن میں ضرور پیش کی جاتی ہیں لیکن سنجات جیسے اہم مسئلہ کا جو ہر انسان سے تعلق رکھتا ہے صرف چند آیات میں مشتبہ طور پر بیان ہونا ایک ناقابل قبول امر ہے۔بائیل کی رو سے غور کرتے ہوئے ایک تو اس عقیدہ کی پوری وضاحت نہیں ملتی لیکن اسی مطالعہ کا دوسرا پہلو اس اصول کو سراسر باطل قرار دیتا ہے کیونکہ بائینیل کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ وہ اس اصول کے خلاف ہے کہ ایک کسے گناہ کی سزا دوسرے شخص کو دیدی جائے یا ایک کے جرم کے بدلہ میں کسی غیر محرم کو پکڑ لیا جائے۔اس سلسلہ میں بائیمیل کے چند حوالے بطور نمونہ ملاحظہ ہوں لیکھا ہے :۔اولاد کے بدلے باپ دادے نہ بارہ سے جائیں۔باپ دادوں کے بدلے نہ اولا دقتل کی - جامہ نے۔ہر ایک اپنے گناہوں کے بدلے ہی مارا جاوے گا (استثناء ۲۳) د بیٹوں کے بدلے باپ دادا نہ قتل ہوں گے۔نہ باپ دادوں کے بدلے بیٹے قتل ہوں گے بلکہ ہر ایک آدمی اپنے گناہ کے بد سے مارا جان سے ۲۔تواریخ ) ان ایام میں پھر یوں نہ کہیں گے کہ باپ دادا نے کچے انگور کھائے اور اولاد کے دانت کھٹے ہو گئے۔کیونکہ ہر ایک اپنی ہی بدکرداری کے سب سے مرے گا۔ہر ایک جو کچھے انگور کھاتا ہے اسی کیسے دانت کھٹے ہوں گے؟ ۴ - " جو جان گناہ کرتی ہے وہی مرے گی؟ (حتہ قبل ہے) " جو جان گناہ کرتی ہے وہی سرے گی بیٹا باپ کے گناہ کا بوجھ نہ اُٹھائے گا اور نہ باپ بیٹے کے گناہ کا بوجھ۔صادق کی عدالت اسی کے لئے ہوگی اور شریر کی شرارت شریر کیلئے ؟ حز قیل ہے؟ 0 ۱۷۵۱۷۴ : ملفوظات جلد سوم ص ۱۷۵ : دیر میاں ؟