کسر صلیب — Page 270
معون ہونے کا بھی انکار نہیں کر سکتے تھے۔تب انہوں نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ مسیح ہمار سے لئے لعنتی بنا اور ہمارہ سے گناہ اس نے اُٹھالئے لکھا ہے :- در مسیح جو ہمارے لئے لعنتی بنا ہمیں مول سے کر شریعیت کی لعنت سے چھوڑا یا کہ سلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ دلیل دی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو ہرگز ہرگز ملعون قرار نہیں دیا جاسکتا۔حضور نے اس دلیل کو اس ترتیب سے بیان فرمایا ہے :- ا۔حضرت مسیح علیہ السلام کا مصلوب اور ملعون ہونا عیسائی عقیدہ میں شامل ہے لعنت خواہ تین دن کے لئے ہو یا کم و بیش بہرحال وہ مسیح پر اس لعنت کو ضرور وال د کرتے ہیں۔۲ - لعنت کے مفہوم کی پوری پوری وضاحت کی ہے کہ لعنت خدا سے دوری کا نام ہے اور تاریکی و ظلمت کا دوسرا نام ہے۔اسی وجہ سے لعین شیطان کا نام ہے لعنت کا یہ مفہوم عقلا ہم حضرت مسیح پر ہر گز وارد نہیں کر سکتے۔کیا خدا کا ایک پیارا نہی لعنت کی ظلمت سے کچھ بھی حصہ لے سکتا ہے۔ہر گز نہیں ۴ - حضرت مسیح نے اپنے بارہ مں جو کچھ کہا لعنت کا مفہوم استکی سراسر خلاف ہے میسیج نے اپنے آپ کو نور کہا۔کیا نور اور لعنت کی ظلمت اکٹھے ہو سکتے ہیں۔۵ - عیسائی حضرت مسیح کو خدا بھی مانتے ہیں اور ملعون بھی۔یہ متضاد صفات ایک ہی وجود میں بیک وقت پائی نہیں جاسکتیں۔- اگر بیٹے کو ملعون قرار دیا جائے تو باپ بھی ملعون بنتا ہے پس کیا عیسائی خدا کو بھی لعنت کا مورد قرار دیں گے ؟ (العیاذ باللہ ) اگر واقعی حضرت مسیح نے طعون ہو کر دوسروں کو نجات دی ہے اور اس کے سوا نجات کی کوئی صورت نہیں تو ایسی نجات پر ہزار لعنت بھیجنی چاہیئے جس کے لئے خدا کے ایک پیار سے بند سے اور نبی کو ملعون بتانا پڑے۔الفرض ان سب امور کو پیش فرما کر حضور نے ثابت فرمایا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو ہرگز ہرگز معون نہیں کہا جا سکتا اور جب وہ ملعون نہ ہوئے یعنی تصلیب کا نتیجہ ان پر وارد نہ ہوا تو مسیحی کفارہ خود بخود باطل ہو گیا۔اسی دلیل کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت سے حوالہ جات ملتے ہیں جن میں لعنت کا مفہوم حضرت مسیح پر اس کا وارد نہ ہونا، ملعون ہونے کے نتائج اور اس لعنت سے کفارہ کے ابطال پر گلیتو