کسر صلیب — Page 269
۲۶۹ میرے خدا ! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔اگر وہ صلیبی موت پر راضی تھا تو رسیے کیوں عائیں کیں، (۳) یہ کہنا کہ اپنے عمدا اپنے تئیں صلیب پر چڑھایا تا اس کی امت کے گناہ بخشے جائیں۔ا زیادہ کوئی بے ہودہ خیال نہیں ہوگا جس شخص نے تمام رات اپنی جان بچانے کے لئے رو رو کر ایک باغ میں دعا کی اور وہ بھی منظور نہ ہوئی اور پھر گھبراہٹ اس قدر اس پر غالب آئی کہ صلیب پر چڑھنے کے وقت ایلی ایلی لما سبقتنی کہ کر اپنے خُدا کو خُدا کہ کسے پکارا اور اس شدت بے قراری میں باپ کہنا بھی بھول گیا اس کی نسبت کوئی خیال کر سکتا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے جان دی" سے ان تین حوالوں میں حضور نے اس امر کو بدلائل ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح نے اپنی مرضی اور خوشی سے صلیبی موت قبول نہیں کی اور جب یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ یہ قربانی خوشی کی نہیں بلکہ یہ دستی کی ہے تو یہ ہرگز کفارہ نہیں ہو سکتی حضور اس دلیل کو مختصراً یوں بیان فرماتے ہیں : - یسوع کا مصلوب ہونا اگر اپنی مرضی سے ہوتا تو خود کشی اور حرام کی موت تھی اور خلاف مرضی کی حالت میں کفارہ نہیں ہو سکتا کے دسویں بیل کی زبر کفارہ کی تردید میں ایک بہت ہی نہ بر دست دلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بیان فرمائی ہے کہ کفارہ کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام معون ثابت ہوتے ہیں اور عیسائی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ لعنتی بن گئے تھے۔حضرت مسیح علیہ اسلام کا ملعون ہونا عقلاً ، اخلاقاً ، شرعاً اور واقعتاً بالبداہت غلط اور ناقابل قبول ہے لہذا کفارہ باطل ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کو یہود نے صلیب پر لٹکا کر اپنے خیال میں مار دیا۔ان کی کتاب کی رو سے جو صلیب پر مرے وہ لعنتی ہوتا ہے لکھا ہے :- " جسے پھانسی ملتی ہے وہ خدا کی طرف سے ملعون ہے یا کہ جب عیسائیوں نے یہود کے اس دعوی کو قبول کر لیا کہ ہم نے مسیح کو صلیب پر مار دیا ہے تو وہ اسکے حقیقة الوحی صت جلد ۲۲ : : حقیقۃ الوحی حاشیه صنت جلد ۲۲ به ه ست بچن حاشیه ما جلد ۱۰ ؛ : استثناء : - ۲۱