کسر صلیب — Page 271
استدلال - یہ سب امور بڑی وضاحت سے بیان ہوئے ہیں۔ان سب حوالہ جات کا اس جگہ درج کرنا باعث تطویل ہوگا۔اس لئے میں چند منتخب حوالہ جات درج کرتا ہوں حضور علیہ السلام فرماتے ہیں :- (1) " حضرت مسیح علیہ السلام کو لعنتی ٹھہرانے کا عقیدہ جو عیسائیوں کے مذہب کا اصل الاصول ہے ایسا صر سمح المبطلان ہے کہ ایک سطحی خیال کا انسان بھی معلوم کر سکتا ہے کہ کسی طرح ممکن نہیں کہ ایسا مذہب سچا ہو جس کی بنیاد ایسے عقید سے پر ہو جو ایک راستباز کسے دل کو لعنت کے سیاہ داغ کے ساتھ ملوث کرنا چاہتا ہے " سے (F) " لعنت ایک ایسا مفہوم ہے جو شخص ملعون کے دل سے تعلق رکھتا ہے اور کسی شخص کو اس وقت لعنتی کہا جاتا ہے جبکہ اس کا دل خدا سے بالکل برگشتہ اور اس کا دشمن ہو جائے اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے اور اس بات کو کون نہیں جانتا کہ لعنت قرب کے مقام کے مد کرنے کو کہتے ہیں اور یہ لفظ اس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جس کا دل خدا کی محبت اور اطاعت سے دُور جاپڑ سے اور در حقیقت وہ خدا کا دشمن ہو جائے۔لفظ لعنت کے یہی معنی ہیں جس پر تمام اہل لغت نے اتفاق کیا ہے۔اب ہم پوچھتے ہیں کہ اگر در حقیقت میسوع میسج پر لعنت پڑ گئی تھی تو اس سے لازم آتا ہے کہ در حقیقت وہ مورد غضب الہی ہو گیا تھا اور خدا کی معرفت اور اطاعت اور محبت اسکی دل سے جاتی رہی تھی اور خدا ہنس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو گیا تھا اور خدا اسی بیزار اور وہ خدا سے بیزالہ ہوگیا تھا جیسا کہ لعنت کا مفہوم ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ لعنت کے دنوں میں در حقیقت کا فر اور خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن اور شیطان کا حصہ اپنے اندر رکھنا تھا۔پس یسوع کی نسبت ایسا اعتقاد کرنا گویا نعوذ باللہ اس کو شیطان کا بھائی بنانا ہے“۔رس ولعن اور بعثت ایک لفظ عبرانی اور عربی میں مشترک ہے جس سے یہ معنی ہیں کہ ملعون انسان کا دل خدا سے بیکلی برگشتہ اور دور اور مہجور ہو کر ایسا گندہ اور ناپاک ہو جائے میں طرح جذام سے جسم گندہ اور خراب ہو جاتا ہے اور عرب اور عبرانی کے اہل نہ بان اس بات :- سرامد بن عیسائی کے چار سوالوں کا جواب من جلد ۱۲ سته تریاق القلوب مثنا جلدها : -