کسر صلیب — Page 268
۲۶۸ اپنی مرضی سے میلسی موت کو قبول نہیں کیا۔گروہ دل سے ایسا ہی کرنا چاہتے تو وہ ہرگز ہرگزنہ کسی طرح وہ صلیب بچ جانے کے لئے خدا کے حضور تفرع اور عاجزی کے ساتھ رو رو کر دعائیں نہ کرتے۔لیکن بائیبل سے ثابت ہے کہ انہوں نے ایسا کیا لکھا ہے :- گھٹنے ٹیک کر یوں دُعا کرنے لگا کہ اسے باپ اگر تو چاہے تو یہ پیالہ مجھ سے ہٹا لے لے نیز لکھا ہے :- اس نے اپنی بشریت کے دنوں میں زور زور سے پکا رکر اور آنسو بہا بہا کہ اسی دعائیں اور التجائیں کیں جو اس کو موت سے بچا سکتا تھا " سے پس ثابت ہے کہ مسیح ہرگز صلیب پر مرنا نہ چاہتے تھے۔وہ بچنا چاہتے تھے لیکن ان کو زبر دستی پکڑ کر صلیب پر لٹکا دیا گیا۔گویادہ تو زبر دستی صلیب پر لٹکائے گئے اور مسیحیوں نے ان کو اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھ لیا۔پس یہ امر کہ خود حضرت مسیح علیہ السلام صلیبی موت کو پسند نہ کرتے تھے بلکہ استی نفرت کرتے تھے ، کفارہ کے ابطال پر ایک زیر دست دلیل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس دلیل کو ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں :- (1) " دوسرے کی نجات کے لئے خود کشی کر نا خود گناہ ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہ سکتا ہوں کہ ہر گز مسیح نے اپنی رضا مندی سے صلیب کو منظور نہیں کیا بلکہ شریر یہودیوں نے جو چاہا اس سے کیا اور سچ نے صلیبی موت سے بچنے کے لئے باغ میں ساری رات دُعا کی اور اس کے آنسو جاری ہو گئے۔تب خدا نے بباعث اس کسی تقوی کے اس کی دُعا قبول کی اور اس کو صلیبی موت سے بچا لیا جیسا کہ خود انجیل میں بھی لکھا ہے۔پس یہ کیسی تہمت ہے کہ مسیح نے اپنی رضامندی سے خود کشی کی یہ سے (۳) " یہ بات کہ اس لعنتی موت پر مسیح خود راضی ہو گیا تھا اس دلیل سے ردّ ہو جاتی ہے کہ مسیح نے باغ میں رورو کرد ممانی کہ وہ پیالہ ایسے مل جائے اور پھر صلیب پر کھینچنے کے وقت چیخ مار کر کہا ایلی اپنی لما سبقتنی یعنی اسے میرے خدا۔اسے : لوقا ۲۲ الم و تم کو لیکچر ہور صا جلد ۲۰ : 1 - -:- عبرانیوں ہے -