کسر صلیب

by Other Authors

Page 267 of 443

کسر صلیب — Page 267

۲۶۷ آستینوں پر لکھیں اور بچوں کو سکھائیں اور خود حفظ کریں۔اب کیا یہ بات سمجھ آسکتی ہے یا کسی کا پاک کا نشنس یہ گواہی دے سکتا ہے کہ باوجود اتنی نگہداشت کے سامانوں کے تمام فرقے یہود کے توریت کی اس پیاری تعلیم کو بھول گئے جن پر ان کی نجات کا مدار تھا اے نیز فرمایا : "اگر یہودیوں کو نجات کے لئے اس لعنتی قربانی کی تعلیم دی جاتی تو کچھ سب معلوم نہیں ہوتا کہ کیوں وہ اس تعلیم کو پوشیدہ کرتے ہاں یہ تمکن تھا کہ وہ لیسوع مسیح کو خدا کا بیٹا کہ کتے نہ مانتے اور اس کی مصیب کو سچے بیٹے کی صلیب تصویر نہ کرتے اور یہ کہتے کہ حقیقی بیٹا جس کی قربانی سے دنیا کو نجات ملے گی یہ نہیں ہے بلکہ آئندہ کسی زمانہ میں ظاہر ہوگا مگر یہ تو کسی طرح ممکن نہ تھا کہ تمام فرقے یہود کے سرے سے ایسی تعلیم سے انکار کر دیتے جو ان کی کتابوں میں موجود تھی اور خدا کے پاک نبی اس کو تاندہ کر تے آئے تھے۔۲ ان حوالہ جات سے عیاں ہے کہ کفارہ کی تعلیم کا توریت میں پایا جانا از بس ضروری تھا لیکن عملاً ایسا نہیں ہے۔پس ثابت ہوا کہ عیسائیت کا پیش کہ وہ کفارہ کا نظریہ ایک باطل عقیدہ ہے جو بعد کی ایجاد معلوم ہوتا ہے، اس لئے ہر گنہ قابل قبول نہیں ہے۔1 تویں دلیل عقیدہ کفارہ کے مطابق عیسائی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خداد ند یسوع مسیح نے بڑی خوشی کے ساتھ گناہگاروں کے لئے صلیب پر جان دینے کو قبول کیا اور ایسا یقین رکھنا ضروری بھی ہے کیونکہ اگر واقعی دوسروں کو نجات دلانے کا نیک عزم دل میں ہو تو وہ قربانی بڑی خوش دلی سے ہونی چاہیئے عیسائیوں کے اس یقین کی ایک بنیاد ان کا یہ اعتقاد بھی ہے کہ یسوع مسیح اس مقصد کے لئے مجسم ہوئے تھے گویا وہ شروع سے اس غرض کے لئے تیار کئے گئے تھے کہ بالآخر نوع انسان کے لئے صلیبی موت کو قبول کریں۔یہ عیسائیوں کا اعتقاد ہے جو کفارہ کے عقیدہ کے ساتھ لازم وملزوم ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قربانی رضا مندی اور دلی خواہش سے ہوئی ہے کیونکہ یہ بات تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ زبردستی کی قربانی نجات کا ثمرہ پیدا نہیں کر سکتی ہے۔اس اعتقاد کے بالمقابل جب ہم واقعات پر نظر کر تے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ حضرت مسیح نے سراجدین عیسائی کے چار سوالیوں کا جواب مث جلد ۱۲ : ه - - ايضا ما جلد ۱۲ :