کسر صلیب — Page 266
حضور کے الفاظ میں یہ دلیل اس طرح ہے۔فرمایا :- جب اس اصول کو اس پہلو سے دیکھا جائے کہ کیا اس لعنتی قربانی کی تعلیم یہودیوں کو بھی دی گئی ہے یا نہیں تو اور بھی اس کے کذب کی حقیقت کھلتی ہے یہ لہ پھر فرمایا : " یہ بات ظاہر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں انسانوں کی نجات کے لئے صرف یہی ایک ذریعہ تھا کہ اس کا ایک بیٹا ہو اور وہ تمام گنہ گاروں کی لعنت کو اپنے ذمہ سے لے اور پھر لعنتی قربانی بن کہ صلیب پر کھینچا جائے تو یہ امر ضروری تھا کہ یہودیوں کے لئے تو ریت اور دوسری کتابوں میں جو یہودیوں کے ہاتھ میں ہیں اس لعنتی قربانی کا ذکر کیا جاتا۔کیونکہ کوئی عقلمند اس بات کو باور نہیں کر سکتا کہ خدا کا وہ ازلی ابدی قانون جو انسانوں کی نجات کے لئے اس نے مقرر کر رکھا ہے ہمیشہ بدلتا ر ہے اور توریت کے زمانہ میں کوئی ہو۔اور انجیل کے زمانہ میں کوئی اور متر آن کے زمانہ میں کوئی اور ہو اور دوسرے نبی جو دنیا کے اور حصوں میں آئے ان کے لئے کوئی اور ہو اب ہم جب تحقیق اور تفتیش کی نظر سے دیکھتے ہیں LT۔تو معلوم ہوتا ہے کہ توریت اور یہودیوں کی تمام کتابوں میں اس لعنتی قربانی ک تعلیم نہیں ہے نیز فرمایا : ایک عقلمند کو نہایت انصاف اور دل کی صفائی کے ساتھ سوچنا چاہیے کہ اگر یہی بات سچ ہوتی کہ خدا تعالٰی نے یسوع مسیح کو اپنا بیٹا قرارہ دیکر اور غیروں کی لعنت اس پر ڈال کر پھر اس لعنتی قربانی کو لوگوں کی نجات کے لئے ذریعہ ٹھہرایا تھا اور یہی تعلیم یہودیوں کو ملی تھی تو کیا سب تھا کہ یہودیوں نے آج تک اس تعلیم کو پوشیدہ رکھا اور بڑے اصرالہ سے اسی دشمن رہے۔کے پھر اسی سلسلہ میں فرمایا : " یہ اعتراض اور بھی قوت پاتا ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہودیوں کی تعلیم کو تازہ کرنے کے لئے ساتھ ساتھ نبی بھی چلے آئے تھے اور حضرت موسیٰ نے کئی لاکھ انسانوں کے سامنے توریت کی تعلیم کو بیان کیا تھا۔پھر کیونکہ یمکن تھا کہ یہودی لوگ ایسی تعلیم کو جو تواتر نبیوں سے ہوتی آئی مجھل دیتے۔حالانکہ ان کو حکم تھا کہ خدا کے احکام اور وصایا کو اپنی چوکھٹوں اور دروازوں اور ے: سراجدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب مثہ جلد ۱۲ : ۵۲ : - سراجدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب مشت جلد ۱۲ -: ه جلد اين