کسر صلیب — Page 260
۲۶۰ باطل ہے۔موروثی گناہ کا یہ مسئلہ کہ گناہ نطفہ کے ذریعہ منتقل ہوتا ہے عیسائیوں نے اس وجہ سے اختیارہ کیا ہے کہ اس طرح وہ مسیح کو گناہوں سے بری قرار دے سکیں جو کسی انسان کے نطفہ سے پیدا نہیں ہوئے حالانکہ اگر ان کے فلسفہ کی رو سے ہی دیکھا جائے تو مسیح عام انسانوں سے بھی زیادہ گنا سگا ہ قرار پاتا ہے تفصیل اسکی یہ ہے کہ بائیں کی رو سے ممنوع پھل کو کھانے کا گناہ سب سے پہلے عورت نے کیا تھا انھی پہلے خود پھل کھایا پھر مرد کو دیا عورت کا گناہ دگنا اور مرد کا اسے نصف ہے۔پمپس جو لوگ مرد و عورت کے ملاپ سے پیدا ہوتے ہیں ان میں اوسط درجہ کا گناہ سرایت کرتا ہے لیکن جو وجود صرف عورت سے پیدا ہوا اس میں ایک عام انسان سے زیادہ گناہ کا مادہ آنا چاہیئے۔پس موروثی گناہ کے فلسفہ سے تو عیسائی حضرات کے خلاف زیر دست دلیل قائم ہوتی ہے۔* اس بیان سے واضح ہے کہ موروثی گناہ کا مسئلہ باطل ہے اور جب یہ مسئلہ باطل ہوا تو سب کے سب بنی آدم کے گہنگار ہونے کا بھی کوئی سوال نہ رہا اور اس طرح کفارہ کی ضرورت ہی باطل ہو جاتی ہے۔ہو چھٹی دلیل کفارہ کی تردید میں چھٹی دلیل یہ ہے کہ اس عقیدہ کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام گناہگاروں کیلئے قربانی دیئے گئے حالانکہ اعلی چیز کو ادنی چیز کے لئے قربان کرنا عقل بھی درست نہیں اور پھر قانونِ قدرت میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔دنیا کا اصول یہ ہے کہ ہمیشہ ادنی چیز کو اعلی چیز کے لئے قربان کیا جاتا ہے اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیئے کیونکہ اعلیٰ چیز کی بقاء اور ترقی زیادہ ضروری ہے۔ہم روزانہ اس چیز کو مشاہدہ کرتے کا اصول بھی یہی بتاتا ہے۔"Surwval of the Fittest" ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ بائیبل سے بھی اسی اصول کی تصدیق ہوتی ہے۔لکھا ہے :- شریر صادق کا مذیہ ہو گا اور دنیا بانہ راستبانوں کے بدلہ میں دیا جائے گا۔" (امثال (1) لیکن کفارہ کا سیمی نظریہ بائیبل کے اس بیان کے برخلاف یہ کہتا ہے کہ : مسیح جو پاک، ہمعصوم، خدا کا اکلوتا بیٹا بلکہ خود خدا تھا وہ بدکاروں ، گناہ گاروں اور ذلیل انسانوں کے بدلہ میں مصلوب ہوا۔اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے بائیل کے علاوہ پادریوں نے بھی اس اصول کی صداقت کو تسلیم کیا ہے چنانچہ پادری ڈبلیو گولڈ سیک لکھتے ہیں : -