کسر صلیب

by Other Authors

Page 261 of 443

کسر صلیب — Page 261

۲۶۱ " نباتات کھائی جاتی ہے اور چوپایہ کو نہ ندگی اور قوت بخشتی ہے۔اور پھر وقت پر اس سے انسان کی پرورش ہوتی ہے۔21 پس ثابت ہوا کہ از روئے شریعیت، از روئے بائییل، از روئے مشاہدہ اور انہ روئے عقل اننی چیز کو اعلی کی خاطر قربان کرنا چاہیئے لیکن حضرت سیح علیہ السلام کی قربانی اس لحاظ سے انوکھی اور نرالی قربانی ہے کہ اس میں گنا ہنگار انسانوں کے لئے میسج جیسا معصوم وجود، خدا کا اکلوتا بیٹا ، قربان کیا جاتا ہے معمولی سے معمولی سمجھ رکھنے والا انسان بھی اسے بڑی حماقت تصور کر سے گا کہ ایک شخص اپنے دستش روپوں کی مالیت کے سامان کے لئے اس پر سو روپیہ کی رقم خرچ کر دے۔ہر شخص کہے گا کہ ایسے شخص کا دماغی توازن درست نہیں ہے اور اس کا یہ فعل معقولیت سے کوسوں دور ہے۔یہی فتوی عیسائیوں کے اس خدا پر صادق آتا ہے جنسی چند گناہگا۔دنیا داروں کی خاطر اپنے اکلوتے جگر گوشے کو صلیب پر چڑھانا پسند کیا ہے کی اس دلیل کو پیش کرتے ہوئے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- "خُدا کا قانون جس پر چلنے کے لئے انسانی زندگی مجبور ہے قدیم سے یہی ہے کہ اونی اعلیٰ پہ قربان کیا جاتا ہے ا سکے H پھر آپ فرماتے ہیں :- "حس فدیہ کو وہ پیش کرتے ہیں وہ خدا تعالی کے قانونِ قدرت کے مخالف ہے کیونکہ اپنی قانون پر غور کر کے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ ادنی اعلی پر قربان کیا گیا ہے مثلاً انسان اشرف المخلوقات اور بالاتفاق تمام معقلمندوں کے تمام حیوانات سے اعلیٰ ہے۔سو اسکی صحت اور بقاء اور پائیداری نیز اسکی نظام تمدن کے لئے تمام حیوانات ایک قربانی کا حکم رکھتے ہیں۔پانی کے کیڑوں سے لیکر شہد کی مکھیوں اور ریشم کے کیڑوں اور تمام حیوانات بکری گائے وغیرہ تک جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو یہ سب انسانی نہ ندگی کے خادم اور نوع انسان کی راہ میں ندیہ معلوم ہوتے ہیں۔ایک ہمارے سے بدن کی پھنسی کے لئے بسا اوقات۔کے لئے شو جوک جان دیتی ہے تاہم اس بھینسی سے نجات پادیں۔ہر روز کروڑ یا بیکری اور بیل اور مچھلیاں وغیرہ ہمارے لئے اپنی جان دیتی ہیں تب ہماری بقاء صحت کے مناسب حال غذا میسر ہوتی ہے۔پس اس تمام سلسلہ پر نظر ڈال کر معلوم ہوتا ہے کہ خُدا نے اعلیٰ کے لئے ادنی کو فدیہ مقرر کیا ہے لیکن اعلی کا ادنیٰ کے لئے قربان ہونا اسکی نظر خدا کے قانون قدرت میں ہمیں نہیں ملتی ہے ، 44-46 ن: الکفاره : : کفارہ کی حقیقت : سے : کتاب البریه من جلد ۱۳ به در کتاب البریه ۲ جلد سلام :- ص : نگ