کسر صلیب

by Other Authors

Page 258 of 443

کسر صلیب — Page 258

YDA پس اس سارے بیان سے ثابت ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام بے گناہ نہ تھے۔حضرت سیج پاک علیہ السلام فرماتے ہیں :- یسوع کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ موروثی اور کسی گناہ سے پاک ہے حالانکہ یہ صریح غلط ہے۔عیسائی خود مانتے ہیں کہ یسوع نے اپنا تمام گوشت و پوست اپنی والدہ سے پایا تھا۔اور وہ گناہ سے پاک نہ تھی اور نیز عیسائیوں کا یہ بھی اقرار ہے کہ ہر ایک درد اور دکھ گناہ کا پھل ہے اور کچھ شک نہیں کہ یسوع بھبو کا بھی ہوتا تھا اور پیا س بھی اور بچپن میں قانون قدرت کے موافق خسرہ بھی اسے نکلا ہوگا۔اور چیچک بھی اور دانتوں کے نکلنے کے دکھ بھی اُٹھائے ہوں گے اور موسموں کے تہوں میں بھی گرفتار ہوتا ہو گا بموجب اصول عیسائیوں کے یہ سب گناہ کے پھل ہیں پھر کیونکہ اس کو پاک فدیہ سمجھا گیا علاوہ اس کے جب کہ روح القدس کا تعلق صرف اسی حالت میں بموجب اصول عیسائیوں کے ہو سکتا تھا کہ جب کوئی شخص ہر ایک طرح سے گناہ سے پاک ہو تو پھر سیوع جو بقول ان کے موروثی گناہ سے پاک نہیں تھا اور نہ گناہوں کے پھل سے بچ سکا اس سے کیونکہ روح القدس نے تعلق کر لیا بظاہر اس سے زیادہ تر ملک صدق سالم کا حق تھا کیونکہ بقول عیسائیوں کے وہ ہر طرح کے گناہ سے پاک تھا۔“ لے پس جب حضرت مسیح کا معصوم اور بے گناہ ہونا ثابت نہیں جو کفارہ کی ایک بہت ہی اہم بنیاد ہے تو ثابت ہوا کہ کفارہ باطل ہے۔اس دلیل کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک حوالہ درج کرتا ہوں جس میں حضور نے فرمایا ہے کہ اگر حضرت مسیح کا بے گناہ ہونا ثابت بھی ہو جائے تب بھی یہ کوئی ایسی خوبی نہیں کہ اسکی وجہ سے وہ دوسرے لوگوں کے گناہوں کا کفارہ ہو سکے۔نیز حضرت مسیح علیہ السلام کے بالکل بے گناہ نہ ہونے کی حکمت بیان فرمائی ہے۔حضورہ فرماتے ہیں : - W عیسائی لوگ یسوع کی تعریف نہیں کہا کہ تھے ہیں کہ وہ بے گناہ تختیا حالانکہ بے گناہ ہونا کوئی خوبی نہیں۔خوبی تو اس میں ہے کہ اللہ تعالی کے ساتھ اعلی درجہ کے تعلقات ہوں اور انسان قرب الہی کو حاصل کر ہے۔کیونکہ خداتعانی جانتا تھا کہ عیسوع کی لوگ حد سے زیادہ ناجائنہ عزت کریں گے اس واسطے پہلے ہی سے اس کا وہ حال ہوا جب سے ہر بات میں اس کا عجز اور کمزور انسان : كتاب البرية عند جلد ۱۳ : -