کسر صلیب — Page 251
۲۵۱ اپنی ذات میں کوئی ایسا ضروری عقیدہ نہ تھا اگر کفارہ کے اثبات کے لئے اس کی ضرورت نہ ہوتی۔اس ضمن میں ایک اور حوالہ ملا حظہ ہو ایک مسیحی شیخ کامل منصور لکھتے ہیں :- ہے شک کفارہ مسیحیت کی بنیادی اصل ہے اور سب سے بڑا رکن جس کی عقلی دلیل یہ ہے کہ اگر کفارہ سے انکار کیا جائے تو خدا کی صفت عدل و رحم سے انکار لازم آتا ہے۔کیونکہ کفارہ کے بغیر یہ دونوں صفتیں جمع نہیں ہو سکتی ہیں یا لے اس حوالہ سے بھی ظاہر ہے کہ مسیحی حضرات کفارہ کے عقیدہ کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔اس اہمیت کے پس منظر میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر یہ ثابت کر دیا جائے کہ کفارہ کا عقیدہ ایک باطل عقیدہ ہے تو عیسائیت کی ساری عمارت دھڑام سے زمین پر آرہتی ہے۔کفارہ کی تردید کی اس اہمیت کے پیش نظر ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کفارہ کی تردید پر خاص توجہ دی ہے کیونکہ آپ کی آمد کا مقصد ہی یعنی عیسائیت کو بالجملہ باطل ثابت کرنا تھا۔تردید کفارہ کے دلائل مسیحی کفارہ کی حقیقت اور اس کی تردید کی اہمیت کے بیان کے بعد اب کفارہ کی تردید میں ان دلائل کو بیان کیا جاتا ہے۔جو سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے اسی سلسلہ میں اپنی کتب اور بیانات میں ذکر فرمائے ہیں۔مسیحی عقیدہ کی مذکورہ بالا وضاحت پر غور کرنے سے یہ اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہ عقیدہ عیسائیت کے بعض اور عقائد کی بنیاد پر اختیار کیا گیا ہے۔اس طرح وہ ساری خرابیاں جو ان عقائد میں الگ الگ طور پر تھیں وہ سب اس ایک عقیدہ میں یکجائی طور پر جمع ہو گئی ہیں کیونکہ اس عقیدہ کی مثال تو بناء الفاسد على الفاسد کی سی ہے اور جب اس کفارہ کی بنیادی اینٹیں ہی غلط رکھی گئی ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ ان غلط اینٹوں پر استوار کی جانے والی عمارت نقائص سے پاک ہو۔ے خشت اول چون نهد معمار کجا تا ثریا سے رود دیوانہ کج پس عیسائیت کا عقیدہ کفارہ عیسائیت کے باقی عقائد کی غلطیوں کو بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔مسیح پاک علیہ السّلام نے اس ساری تفصیل کو کس خوبی اور عمدگی سے ایک بلیغ فقرہ میں سمو دیا ہے۔آپ کفارہ کے بارہ میں فرماتے ہیں :- س : شیخ میخائیل منصور کیوں سیمی ہوئے از شیخ کامل منصور بار اول مطبوعہ شائه و