کسر صلیب

by Other Authors

Page 246 of 443

کسر صلیب — Page 246

۲۴۶ کو چھوڑ کر وہ صرافہ تقسیم کی ہدایت کرتا ہے نہ یہ چاہا کہ تعذیب جسم کے اصولوں کو اختیار کرو اور اپنے آپ کو مشکلات میں ڈالو نہ یہ کہ سارا دن کھیل اور کو دا در تماشوں اور شکار ہیں گذار دو یا ناول خوانی میں بسر کرو اور رات کو سو کر عیاشی ہیں۔خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی راہ یہ ہے کہ اس کے لئے صدق دکھایا جائے" سے اسلام میں کفارہ کی حیثیت کے بارہ میں اس مختصر بیان کے بعد ہم کفارہ کے اس مفہوم کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں جو عیسائیت، دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے۔گونیا مسیحی کفاره کفارہ کا مسئلہ عیسائیت کا ایک بنیادی اور مایہ نانہ مسئلہ ہے۔ہر مذہب اپنے ماننے والوں کے لئے نجات کی راہ بتاتا ہے۔عیسائی مذہب میں نجات کا جو طریق بیان کیا جاتا ہے وہ کفارہ کے مسئلہ پر ایمان لاتا ہے۔عیسائیت کی اصطلاح میں کفارہ سے مراد لیسوع مسیح کی وہ پاکیزہ اور مقدس صلیبی موت کی قربانی ہے جنسی تمام بنی آدم کے گناہوں کو چھپالیا ہے اور ان کے لئے نجات کی راہ کھول دی ہے۔کفارہ کا مسئلہ بڑے منطقی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔اور دراصل مختلف خیالوں اور اصولوں کو یا ہم ترتیب دے کر کفارہ کا اصول بنایا گیا ہے۔عیسائی حضرات کفارہ کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں کہ تمام بنی آدم گناہ گار ہیں اور آدم نے جو گناہ کیا تھا کہ ممنوعہ پھل کھا لیا تھا اس کی پاداش میں انہیں جنت سے نکالاگیا۔یہ گناہ وراثتا ہر شخص کی فطرت میں چلا آرہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب ہر وہ شخص جو توالد و تناسل کے معروف طریق پر پیدا ہوتا ہے وہ پیدائشی طور پر گناہ گا کہ پیدا ہوتا ہے۔پھر عیسائی یہ کہتے ہیں کہ ہر انسان لازمی طور پر گناہوں سے رہائی حاصل کر کے نجات پانا چاہتا ہے۔لیکن وہ یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ کوئی انسان نیک اعمال کرنے کی وجہ سے نجات نہیں پاسکتا۔اب انسان کے نجات پانے کی ایک ہی صورت ممکن ہے کہ دنیا کا خالق و مالک اس انسان پر رحم کرتے ہوئے کسی گناہ معاف کر دے اور اس کو نجات سے ہمکنار کر دے لیکن وہ کہتے ہیں کہ خدا عادل ہے۔اور گناہ گار کو بغیر میرزا کے چھوڑ دینا اس کسی عدل کے خلاف ہے۔اس کے ساتھ بندوں کو نجات دینا بھی لاندی :- ملفوظات چهارم می ۲ تا ۴۲۹ :