کسر صلیب

by Other Authors

Page 245 of 443

کسر صلیب — Page 245

۲۴۵ یعنی جو گناہوں میں نفسانیت کا جوش ہے وہ ٹھنڈا پڑ جا د ہے۔شفاعت کا نتیجہ یہ بتایا ہے کہ گناہوں کی زندگی پر ایک موت وارد ہو جاتی ہے اور نفسانی جو شوں اور جذبات میں ایک برودت آجاتی ہے جب کسی گناہوں کا صدور بند ہو کر ان کے بالمقابل نیکیاں شروع ہو جاتی ہیں کا لے نیز فرمایا : " شفاعت کے مسئلہ نے اعمال کو بے کار نہیں کیا بلکہ اعمال حسنہ کی تحریک کی ہے؟ ہے شفاعت اور کفارہ ایک نہیں ہے اس کی وضاحت میں آپ فرماتے ہیں :- شفاعت کے مسئلہ کے فلسفہ کونہ سمجھ کر احمقوں نے اعتراض کیا ہے اور شفاعت اور ! کفارہ کو ایک قرارہ دیا۔حلانکہ یہ ایک نہیں ہو سکتے۔کفارہ اعمال حسنہ سے مستغنی کرتا ہے اور شفاعت اعمال حسنہ کی تحریک۔۔۔۔۔۔شفاعت اعمال حسنہ کی محرک کس طرح پر ہے ؟ اس سوال کا جواب بھی قرآن شریف ہی سے ملتا ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ وہ کفارہ کا رنگ اپنے اندر نہیں رکھتی۔کیونکہ اس پر حصر نہیں کیا جب سے کاہلی اور شستی پیدا ہوتی بلکہ فرمایا اذ اسألك عبادي عنی فانی قریب یعنی جب میرے بند سے میرے بارے میں تجھ سے سوال کریں کہ وہ کہاں ہے تو کہہ دے کہ میں قریب ہوں۔۔۔۔۔۔پس یہ آیت بھی تو قبولیت دعا کا ایک راز بتاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طاقت اور قدرت پر ایک ایمان کامل پیدا ہو اور اسے ہر وقت اپنے قریب یقین کیا جا و سے۔۔۔۔۔۔۔اب یہ بات جاوے سوچنے کے قابل ہے کہ ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا۔صل عليهم ان صلوتك سكن لهم تيرى صلواۃ سے ان کو ٹھنڈ پڑ جاتی ہے اور جوش اور جذبات کی آگ سرد ہو جاتی ہے۔دوسری طرف فلیستجیبوالی کا بھی حکم فرمایا۔ان دونوں آیتوں کے ملانے سے دعا کرنے اور کروانے والے کے تعلقات پھر ان تعلقات جو نتائج پیدا ہوتے ہیں ان کا بھی پتہ لگتا ہے کیونکہ صرف اسی بات پر منحصر نہیں کر دیا کہ آنحضر لی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور دعا ہی کافی ہے اور خود کچھ نہ کیا جاد سے اور نہ یہی فلاح کا باعث ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور دعا کی ضرورت ہی بھیجھی جائے غرض نہ اسلام میں رہبانیت ہے نہ بیکار نشینی کا سبق۔بلکہ ان افراط اور تفریط کی راہوں A ۱۲۷ ه : ملفوظات جلد چهارم من ؟ : سه : ملفوظات جلد چهارم م۲۲ :