کسر صلیب — Page 243
: ۲۴۳ تلافی اور غلطی کی اصلاح کے ذریعے کا موجود ہونا انسانی فطرت کی آواز ہے۔اسلام نے اس کے لئے کفارہ کی ایسی صورت مقرر کی ہے جو اس اصل وجہ کو دور کرتی ہے جس کی وجہ سے گناہ سر نہ ہوا اسلام کفارہ کی ذمہ داری اس شخص پر ڈالتا ہے جیسی گناہ سر نہ ہوا تا وہ خود اس گناہ کی تلافی کرے اور اس وجہ کا ازالہ کر سے جس کی سب سے گناہ صادر ہوا تھا اسلام کے پیش کردہ کفارہ کا اصل الاصول یہ ہے کہ۔ان الحسنات يذهبن السيات - که نیکیاں بدیوں کو مٹا ڈالتی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلام کے پیش کر دو حقیقی کفارہ کے اصول کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔"ہم دیکھتے ہیں کہ خداتعالی بدی سے سخت بیزار ہے تو ہمیں اسی سمجھ آتا ہے کہ وہ نیکی کرنے سے نہایت درجہ خوش ہوتا ہے پس اس صورت میں نیکی بدی کا کفارہ ٹھہرتی ہے۔اور جب ایک انسان بدی کرنے کے بعد ایسی نیکی بجالایا جس سے خدا تعالی خوش ہوا تو ضرور ہے کہ پہلی بات موقوف ہو کر دوسری بات قائم ہو جائے ورنہ خلاف عدل ہوگا اسکی مطابق اللہ قلبشانہ، قرآن شریف میں فرماتا ہے۔" ان الحسنات يذهبن ہے۔السیات یعنی نیکیاں بدیوں کو دور کرتی ہیں۔ہم یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ بدی میں ایک زہریلی خاصیت ہے کہ وہ ہلاکت تک پہنچاتی ہے۔اس طرح ہمیں مانا پڑتا ہے کہ نیکی میں ایک تریاتی خاصیت ہے کہ وہ موت سے بچاتی ہے۔مثلاً گھر کے تمام دروازوں کو بند کر دیا۔یہ ایک بدی ہے جس کی لازمی تاثیر یہ ہے کہ اندھیرا ہو جائے پھر اس کے مقابل پر یہ ہے کہ گھر کا دروازہ جو آفتاب کی طرف ہے کھولا جائے اور یہ ایک نیکی ہے جس کی لازمی خاصیت ہے کہ گھر کے اندر گم شدہ روشنی واپس آجائے بال اسلام کے پیش کردہ بچے کفارہ میں یہ بنیادی شرط ہے کہ گناہ کرنے والا خود فدیہ ادا کر سے اس کی وضاحت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- " نجات کا سچا طریق قدیم سے ایک ہی ہے جو حدوث اور بناوٹ سے پاک ہے جس پر چلنے والا حقیقی نجات کو اور اس کے ثمرات کو پالیتے ہیں اور اس کے بچے نمونے اپنے اندر رکھتے ہیں یعنی وہ سچا طریق یہی ہے کہ انہی منادی کو قبول کر کے اس کے نقش قدم پر ایسا چلیں کہ اپنی نفسانی ہستی سے مر جائیں اور اسی طرح اپنے لئے آپ فدیہ دیں اور یہی طریق ہے جو خدا تعالیٰ نے ابتداء سے حق کے طالبوں کی فطرت ط A)- : کتاب البرية من جلد ۱۳ : - -