کسر صلیب — Page 242
۲۴۲ اللہ تعالیٰ کی محبت ہے۔جسے انسان بنا ہے یہ دونوں قوتیں اس کے ساتھ چلی آئی ہیں۔زہرناک قوت انسان کے لئے عذاب کا سامان تیار کرتی ہے۔اور پھر تریاقی قوت جو محبت انہی کی قوت ہے وہ گنا ہوں کو یوں جلا دیتی ہے جیسے خس و خاشاک کو آگ جلا دیتی ہے کیا کہ نیز مربایا : اللہ جل شانہ، قرآن کریم میں جو طریق پیش کرتا ہے وہ تو یہ ہے کہ انسان جب اپنے تمام وجود کو اور اپنی تمام زندگی کو خدا تعالیٰ کے راہ میں وقف کر دیتا ہے تو اس صورت میں ایک سچی اور پاک قربانی اپنے نفس کے قربان کرنے سے وہ ادا کر چکتا ہے اور اس لائق ہو جاتا ہے کہ موت کے عوض میں حیات پاوے کیونکہ یہ آپ کی دعیسائیوں کی ناقل) کتابوں میں بھی لکھا ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دیتا ہے وہ حیات کا وارث ہوتا ہے۔پھر جس شخص نے اللہ تعالی کی راہ میں اپنی تمام زندگی کو وقف کر دیا اور اپنے تمام جوارح اور اعضاء کو اس کی راہ میں لگا دیا تو کیا اب تک اس نے کوئی کچی قربانی ادا نہیں کی کیا جان دینے کے بعد کوئی اور چیز بھی ہے جو اپنی باقی رکھ چھوڑی ہے یا ہے پھر اسی سلسلہ میں فرماتے ہیں : : " خُدا تعالیٰ تو بہ قبول کرتا ہے۔گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔یہاں تک کہ اس معانی کے لئے وہ اس بات کا محتاج نہیں کہ کوئی ناکردہ گناہ سولی پر کھینچا جائے تا وہ گناہ معاف کرے بلکہ وہ صرف تو یہ اور تضرع اور استغفار سے گناہ معاف کر دیتا ہے" سے الغرض السلام نے انسانی نجات کے لئے کسی اور کی قربانی کی بجائے خود اس انسان کے نیک اعمال۔اس کی اپنی کوشش اور اپنے نفس کی قربانی پر زور دیا ہے۔یہی اصول اسلام کے مقرر کردہ کفارہ میں بھی ہے۔اگر یہ اصول بنایا جائے۔کہ اگر کسی انسان سے ایک دفعہ غلطی ہو جانے کے بعد اس کی تلافی کی کوئی بھی صورت باقی نہ ہو، خواہ وہ انسان کچھ کرے خواہ اپنے سار سے وجود کو تو بہ اور ندامت ہیں ہلاک کر دے لیکن وہ گناہ نہ بخشا جائے تو یہ اصول سراسر ظلم اور زیادتی کا اصول ہوگا۔گناہوں کی لے : چشمهر مسیحی مثه جلد ۲۰ ہے چشمه معرفت منه - جلد ۲۳ : :- جنگ مقدس مش - جلد ؟