کسر صلیب

by Other Authors

Page 19 of 443

کسر صلیب — Page 19

۱۹ حدیث اور کلام کے علم کو بلند کیا۔دولت عباسیہ کے زوال کے ساتھ علم کلام کو بھی زوال آیا۔اشاعرہ کے علم کلامہ کے بانی امام ابوالحسن الاشعری قرار پائے۔اشاعرہ کے علم کلام سے گویا ایک نہم تاریخ شروع ہوتی ہے۔امام اشعری سے پہلے دو فریق تھے۔ارباب عقل و نقل - امام اشعری نے بیچ بیچ کا طریقہ اختیار کرنا چاہا۔اور ایسے عقید سے اختیار کئے جو ان کی دانست میں عقل اور نقل دونوں سے ربط رکھتے تھے۔یہ گویا اشعری علم کلام کا پہلا دور تھا۔دوسر سے دور کا آغاز امام غزالی سے ہوا جنہوں نے علم کلام کو ایک جدید رنگ عطا کیا۔علامہ ابن خلدون کا خیال ہے کہ امام غزالی - پہلے کلام کاطریق نقلی دلائل بیان کر نے کا تھا۔انہوں نے عقلی دلائل بھی پیش کرنے شروع کئے۔امام غزائی سے پہلے دونوں طریق الگ الگ تھے لیکن امام غزالی نے ان کو ملا کر ایک نئی طرزہ کا علم کلام جاری کیا جس کو علامہ محمد بن عبد الکریم شہرستانی اور امام فخر الدین رازی نے ترقی دی۔اور قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔جن کا ذکر باعث تطویل ہوگا۔اس دور کے بعد جو مشہور متکلمین گزرے ہیں ان کے نام یہ ہیں :- - ابو الحسن علی سیف الدین آمدی - ۲- قاضی عضد ۳ - علامہ سعد الدین تفتازانی علامہ محمد بن احمد بن رشد جو عام طور پر ابن رشد کے نام سے معروف ہیں کے وجود سے علم کلام کے دور سوم کا آغاز ہوا۔جس کو متاخرین کا زمانہ بھی کہا جاتا ہے۔علامہ ابن رشد کا خاص کام یہ ہے کہ انہوں نے تمام کلامی مسائل پر دلیلیں قرآن مجید سے قائم کیں۔اے علامہ ابن رشد کے بعد ساتویں صدی میں ابن تیمیہ پیدا ہوئے جنہوں نے علم کلام کے بارہ میں کثرت سے کتابیں لکھیں۔اور بیسیوں غلط مسائل میں بڑی دلیری سے گذشتہ علماء سے اختلاف کیا۔اس زمانہ کا ذکر کرنے کے بعد علامہ شبلی نعمانی رکھتے ہیں :- یڑ ابن تیمیہ اور ابن رشد کے بعد بلکہ خود ان ہی کے زمانہ میں مسلمانوں میں ہو عقلی تنزل شروع ہوا اسکے لحاظ سے یہ امید نہیں رہی تھی کہ پھر کوئی صاحب ے :- معلم الکلام از شیلی منت بین