کسر صلیب — Page 18
١٨ A معتزلہ نے فلسفہ میں مہارت حاصل کی۔اور فلسفیانہ مذاق پر اس فن کی تدوین کی سید اصطلاحی علم کلام کا بانی ابو الہندیل خلاف کو قرار دیا جاتا ہے جو مامون الرشید کے زمانہ کا ایک مشہور متکلم ہے اس نے علم کلام پر سب سے پہلی کتاب تصنیف کی ہے۔اس کا پورا نام عمر بن البدیل بن عبد الله بن لکھوں تھا ( ۱۳۱ ہجری تا ۲۳۵ ہجری) اس کی تصانیف کی کل تعداد ۶۰ ہے جو سب کی سب علم کلام سے متعلق ہیں۔" تدريجي ارتقاء خلیفہ مہدی کے بعد ہادی اور پھر بہارون الرشید مسند آرائے حکومت ہوئے۔ہارون الرشید کے بعد مامون الرشید کا دور آیا۔اس دور میں علم کلام کو خاص طور پر نمایاں ترقی حاصل ہوئی۔مولانا شبلی کے الفاظ میں :- " اس کے علمی کارناموں کے بیان کر نے کے لئے ایک دفتر چاہیئے۔سے اس کے عہد میں باقاعدہ مناظروں سے اس علم نے بہت ترقی کی۔اس زمانہ میں ابو الہندیل کے شاگرد ابراہیم بن ستارہ نظام نے اس فن میں کمال حاصل کیا۔مامون کے بعد عہ ہجری میں اس کا پوتا الواثق باش خلیفہ بنا تو علم کلام نے ایک بار پھر عروج کی منزل کی جانب قدم بڑھایا۔اس کے عہد میں نو سخت خاندان نے غیر معمولی خدمات سرانجام دیں۔اس سارے زمانے میں علم کلام اگر چہ ابتداء سے ترقی کرتا جاتا تھا لیکن چوتھی صدی میں وہ درجہ کمال تک پہنچ گیا۔اس صدی میں اس علم پر باقاعدہ تصانیف کے انبار لگ گئے۔قرآن مجید کے بیان کو دلائل عقلیہ سے ثابت کرتے ہوئے ابو سلم محمد بن بھر اصفہانی اور ابوالقاسم عبد الدین احمدبن محمود کھبی نے شاندار تفاسیر رکھیں۔پانچویں صدی میں علم کلام کو بعض وجوہ سے زوال آنا شروع ہوا تاہم بعض بعض متکلمین بڑے بڑے رتبہ کے ہوئے۔ان میں سے ابوالحسن محمد بن علی البصری - ابو اسحاق اسفرائنمنی قاضی عبد الجبار معتزلی بہت بڑے درجہ کے لوگ تھے۔علامہ ابن حریم ظاہری نے سپین میں هو علم الکلام از شیولی من به سه : - علم الکلام از شیعلی گے :۔علم الکلام از شیلی قوت ہے