کسر صلیب

by Other Authors

Page 20 of 443

کسر صلیب — Page 20

دل و دماغ پیدا ہو گا۔لیکن قدرت کو اپنی نیز نگیوں کا تماشہ دکھلانا تھا کہ اخیر زمانہ میں جب کہ اسلام کا نفس بازیسینی تھا۔شاہ ولی اللہ جیسا شخص پیدا ہوا۔جس کی نقطہ سنجیوں کے آگے غزالی، رازی ، ابن رشد کے کارنامے بھی ماند پڑ گئے۔لے حضرت شاہ ولی الله اسلامه تا مکالمہ ہجری نے علم کلام کے میدان میں نہایت شاندار خدمات سرانجام دی ہیں۔فیج اعوج کے زمانہ میں اسلام کی مشعل کو بلند کرنے اور اسلامی تعلیمات کی حکمتیں بیان کرنے کے آغاز کا سہرا آپ ہی کے سر ہے۔آپ نے علم کلام کے سلسلہ میں جو خاص خدمات سرانجام دی ہیں ان کا اندازہ شبلی کے ان الفاظ سے ہوتا ہے۔وہ لکھتے ہیں :- در علم کلام در حقیقت اس کا نام ہے کہ مذہب اسلام کی نسبت یہ ثابت کیا جائے کہ وہ منزل من اللہ ہے۔مذہب دو چیزوں سے مرکب ہے۔عقائد و احکام۔شاہ صاحب کے زمانہ تک جس قدر تصنیفات لکھی جاچکی تھیں صرف پہلے حصہ کے متعلق تھیں۔دوسر سے حصہ کو کسی نے مس نہ کیا تھا۔شاہ صاحب پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس موضوع پر کتاب لکھی "۔اس کتاب سے مراد حجتہ اللہ البالغہ ہے جس میں آپ نے احکام شرعیہ کا فلسفہ بیان کیا ہے۔اگر چہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے انفرادی طور پر بہت کام کیا ہے لیکن مجموعی طور پر اس دور میں آکر علم کلام زوال پذیر ہوگیا۔اور جدید فلسفہ اور غیر مذاہب کے حملوں کے نتیجہ میں کوئی ایسا مرد میدان پیدا نہ ہوا جو اسلام کے علم کو تھامے اور سر بلند کر سے شبلی لکھتے ہیں :- علم کلام نے اگر چہ بارہ سو برس کی عمر پائی لیکن کمال کے رتبہ ترک نہ پہنچ سکا ن سے ان حالات میں ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ اب ایک ایسا جدید علم کلام پیدا ہونا چاہیئے جو مذاہب باطلہ کا پوری ہمت اور قوت کے ساتھ مقابلہ کر سکے کیونکہ تیرھویں صدی کے آخر میں اسلام ہر طرف سے دشمنوں کے نرغے میں گھر چکا تھا۔ہر طرف سے دشمن درندوں کی مانند شه و علم الکلام از خیلی منش به شه : علم الکلام از شبلی داشته به سه فیلم الکلام از شبیلی ملت به