کسر صلیب

by Other Authors

Page 230 of 443

کسر صلیب — Page 230

٢٣٠ بیٹا ہوں۔اور یہ پیش گوئیاں میرے حق میں وارد ہیں۔اور خدائی کا ثبوت بھی اپنے افعال۔کاثبوت سے دکھلا دیا ہے۔تا اس متنازعہ فیہ پیش گوئی سے ان کو مخلصی حاصل ہو جاتی۔تو بہائے مہربانی وہ مقام پیش کر ہے۔۔۔۔۔۔ہر ایک دانا اس بات کو سمجھتا ہے کہ جب وہ کافر ہرائے گئے اور ان پر حملہ کیا گیا اور ان پر پتھراؤ شروع ہوا تو ان کو اس وقت اپنی خدائی کے ثابت کرنے کے لئے ان پیش گوئیوں کی اگر وہ در حقیقت حضرت مسیح کے حق میں تھیں اور ان کی خدائی پر گواہی دیتی تھیں سخت ضرورت پڑی تھی کیونکہ اس وقت جان جانے کا اندیشہ تھا۔اور کافر تو قرار پا چکے تھے۔تو پھر ایسی ضروری اور کار آمد پیشگوئیاں کسی دن کے لئے رکھی گئی تھیں۔کیوں نہیں پیش کیں " سے حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق عہد نامہ قدیم کی جن پیش گوئیوں کو پیش کیا جاتا ہے ان کا تجزیہ کرتے ہوئے حضور نے فرمایا :- ان پیش گوئیوں کے متعلق جہاں تک میں کہ سکتا ہوں دو امر قابل غور ہیں : اولے۔کیا ان پیش گوئیوں کی بابت یہودیوں نے بھی (جن کی کتابوں میں یہ درج ہیں) یہی سمجھا ہوا تھا کہ ان سے تثلیث پائی جاتی ہے یا سیح کا خدا ہونا ثابت ہوتا ہے۔دوم - دھ کیا سین نے خود بھی تسلیم کیا کہ یہ پیشگوشیاں میرے ہی لئے ہیں اور پھر اپنے آپ کو ان کا مصداق قرار دیکر مصداق ہونے کا عملی ثبوت کیا دیا ؟" سے جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے کہ کیا یہودی لوگ ان پیشگوئیوں کو حضرت مسیح پر منطبق کرتے اور اس سے اس کی الوہیت کا استدلال کرتے ہیں حضور علیہ السلام فرماتے ہیں :۔" یہودیوں نے جو اصل وارث کتاب تو ریت ہیں اور جن کی بابت خود مسیح نے کہا ہے کہ وہ موسی کی گری پر بیٹھے ہیں کبھی بھی ان پیش گوئیوں کے یہ معنے نہیں کئے جو آپ یا دوسرے عیسائی کرتے ہیں اور وہ کبھی بھی مسیح کی بابت یہ خیال رکھ کر کہ وہ تثلیث کا ایک جزو ہے منتظر نہیں ہے پھر آپ فرماتے ہیں :- یونیٹیرین لوگوں نے شکست پرستوں کے بیانات ان پیشگوئیوں کے متعلق سنکر کہا کے : جنگ مقدس من روحانی خزائن جلد سے : ملفوظات جلد سوم ۱۲۵-۱۳۰ : :- ملفوظات جلد سوم من :