کسر صلیب — Page 231
: ۲۳۱ ہے کہ یہ قابل شرم باتیں ہیں جو پیش کرنے کے قابل نہیں ہیں۔اور اگر تثلیث اور الوہیت سیح کا ثبوت اسی قسم کا ہو سکتا ہے تو پھر بائیل سے کیا ثابت نہیں ہوسکتا ہے۔لے نیز فرمایا :- " یہودی لوگ جو اول وارث توریت کے تھے جن کے عہد عقیق کی پیش گوئیاں سراسر غلط فہمی کی وجہ سے پیش کی جاتی ہیں کیا کبھی انہوں نے جو اپنی کتابوں کو رو نہ تلاوت کرنے والے تھے اور ان پر غور کرنے والے تھے اور حضرت مسیح بھی ان کی تصدیق کرتے تھے کہ یہ کتابوں کا مطلب خوب سمجھتے ہیں ان کی باتوں کو مانو۔کیا کبھی انہوں نے ان بہت سی پیش کردہ پیشگوئیوں میں سے ایک کے ساتھ اتفاق کر کے اقرار کیا کہ ہاں یہ پیش گوئی مسیح کو خدا بناتی ہے اور آنے والا صیح انسان نہیں بلکہ خدا ہوگا۔تو اس بات کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔۔یہ کیا بات ہے کہ با وجود صدا پیشگوئیوں کے پائے جانے کے پھر بھی ایک پیش گوئی ان کو سمجھ نہ آئی اور کبھی کسی اور زمانہ میں ان کا یہ عقیدہ نہ ہوا کہ حضرت مسیح بحیثیت خدائی دنیا میں آئیں گے" سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام دلیل کے اس حصہ کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں :- " یہ اتفاق یہودیوں کا قبل از زمانہ مسیح کہ آنے والا ایک انسان ہے خدا نہیں ہے ایک طالب حق کے لئے کافی دلیل ہے " سے اور جہاں تک پیش گوئیوں کے متعلق اس حصہ کا تعلق ہے کہ کیا خود حضرت مسیح نے اپنے آپ کو ان کا مصداق قرار دیا ہے یہ بات غلط ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:- انجیل کے اس دعوی کو رد کرنے کے لئے تو خود انجیل ہی کافی ہے کیونکہ کہیں مسیح کا ادعا ثابت نہیں۔بلکہ جہاں ان کو موقع ملا تھا کہ وہ اپنی خدائی منوا لیتے وہاں انہوں نے ایسا جواب دیا کہ ان ساری پیشگوئیوں کے مصداق ہونے سے گویا انکار کر دیا یہ ہے نیز فرمایا : "انجیل کو پڑھ کر دیکھ لو اس میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوا کہ حضرت مسیح نے ان پیشگوئیوں کو پورا نقل کر کے کہا ہو کہ اس پیشگوئی کے رو سے میں خُدا ہوں اور یہ میری : ملفوظات جلد سوم : -:-:- : جنگ مقدس منه روحانی خزائن جلد : ه: ملفوظات جلد سوم من : -١٥ سے :- جنگ مقدس من ۱۸ روحانی خزائن جلد