کسر صلیب — Page 229
۲۲۹ ہوں۔اور میری جماعت کے اکثر معزنہ خوب جانتے ہیں کہ میری شفاعت سے بعض مصائب اور امراض کے مبتلا اپنے دکھوں سے رہائی پاگئے اور یہ خبرین ان کو پہلے سے دی گئی تھیں ؟ اللہ اللہ کی عظیم الشان تحدی ہے۔اور کتنا پر شوکت یہ دعوئی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ شان صرفت اس شخص کے کلام میں نظر آسکتی ہے جس کو خدا نے اپنے خاص دست قدرت سے کھڑا کیا ہو۔اور جری اللہ فی حلل الا نبیاء بنا کر بھیجا ہو۔آپ نے اپنے آپ کو ایک زندہ مثال کے طور پر پیش فرما کر دشمن کو خاموش اور لاجواب کر دیا۔اليسون دليلك عیسائی حضرات حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کی ایک دلیل یہ پیش کر تے ہیں کہ عہد نامہ قدیم میں مسیح کے اللہ ہونے کے بارہ میں پیش گوئیاں پائی جاتی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسیح خدا تھے۔اول یہ بات ہی بڑی کمزوری پر دلالت کرتی ہے کہ مسیح کی الوہیت ثابت کرنے کے لئے قدیم پیشگوئیوں کا سہارا ڈھونڈا جائے۔کیا خدا کی خدائی اسی طرح کی دلیلوں سے ثابت کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی شان تو یہ ہے کہ ے قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حقی ثبوت اس بے نشان کی چہرہ نمائی یہی تو ہے تا ہم اگر گذشتہ پیشگوئیوں کو ہی پیش کرنا ہو تو بات پھر بھی نہیں بنتی۔کیونکہ یہ پیشن گوئیاں خود حضرت مسیح علیہ السلام کی نظر میں ان کی الوہیت کی دلیل نہیں ہیں۔ہمارا استدلال یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح ان پیشگوئیوں کو اپنی الوہیت کی دلیل سمجھتے تو ضرور ان کو ان لوگوں کے سامنے جو ان کی الوہیت کے منکر اور آپ کو کا فر قرار دیتے تھے۔لیکن مسیح کا ایسا نہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ پیشگوئیاں ثبوت الوہیت نہیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دلیل کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:۔اگر حضرت مسیح در حقیقت اپنے تئیں ابن اللہ ٹھہراتے تو ضرور یہی پیشگوئیاں وہ پیش کرتے۔۔۔۔۔جبکہ انہوں نے وہ پیش نہیں کیں تو معلوم ہوا کہ ان کا وہ دعوی نہیں تھا۔اگر انہوں نے کسی اور مقام میں پیش کر دی ہیں اور کسی دوسرے مقام میں یہودیوں کے اس بارہ بارہ کے اعتراض کو اس طرح پر اٹھا دیا ہے کہ میں در حقیقت خدا اور خدا کا : لیکچر سیالکوٹ ما روحانی خزائن جلد ۶۲۰