کسر صلیب — Page 228
انبیاء سے بڑھ کر ہے۔انہیں لازماً یہ دعوی کرنا پڑ سے گا وگرنہ یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ جب ان کو دیگر انبیاء پر کوئی فضیلت حاصل نہیں تو وہ خدا کیسے بن گئے۔جبکہ دیگر انبیاء محض انسان ہیں۔لیکن مسیحیوں کا یہ دعویٰ که حضرت عیسی علیہ السلام کو دیگر انبیاء پر فضیلت حاصل ہے۔دعوی بلا دلیل ہے۔کیونکہ واقعات اس بات پر شاہد ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو دیگر انبیاء پر فضیلت حاصل نہیں۔بلکہ بہت سے ایسے نبی ثابت ہوتے ہیں جو درجہ میں مسیح علیہ السلام سے بڑھے ہوئے ہیں۔جہاں تک ان کے لقب ابن اللہ کا سوال ہے تو ہم دیکھ چکے ہیں کہ اسرائیل کو خدا کا پلوٹا بیٹا کہا گیا ہے۔اور جہاں تک مسیح کے منجزات کا سوال ہے اس کی بھی واضح تر دید موجود ہے۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام فرماتے ہیں :- "کیا حضرت موسیٰ مسیح سے بڑھ کر نہیں۔جن کے لئے بطور تابع اور مقتدی کے حضرت مسیح آئے اور ان کی شریعت کے تابع کہلائے معجزات میں بعض نبی حضرت مسیح سے ایسے بڑھے کہ ہمو جب آپ کی کتابوں کے ہڈیوں کے چھونے سے مرد سے زندہ ہو گئے اور مسیح کے معجزات پراکندگی میں پڑے ہیں کیونکہ وہ تالاب جس کا یوجنا پانچ باب میں ذکر ہے حضرت مسیح کے تمام معجزات کی رونق کھوتا ہے۔کس علی اور فعلی فضیلت کے رو سے حضرت مسیح کا افضل ہونا ثابت ہوا۔اگر وہ ضمنا افضل ہوتے تو حضرت یوحنا سے اصطباغ ہی کیوں پاتے۔ان کے روبرو اپنے گناہوں کا اقرارہ ہی کیوں کرتے۔اور نیک ہونے سے کیوں انکار کرتے " سے یہ تو واقعاتی اور تاریخی ثبوت تھا ، حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے خداداد علم کلام کی شان یہ ہے کہ آپ نے خود اپنی مثال پیش کر کے فرمایا ہے کہ اگر معجزات اور شفاعت کا ہی سوال ہو تو میں دعوی کرتا ہوں کہ میں مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہوں۔اس لئے تو آپ نے فرمایا ہے کہ سے اسی بہتر غلام احمد ہے ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو 4 چنانچہ اسی سلسلہ میں آپ بڑی تحدی اور جلال کے ساتھ فرماتے ہیں :- یاد رکھو کہ خدائی کے دعوی کی حضرت مسیح پر سراسر تہمت ہے انہوں نے ہرگز ایسا دعوی نہیں کیا۔جو کچھ انہوں نے اپنی نسبت فرمایا ہے وہ لفظ شفاعت کی بڑھتے نہیں۔سونبیوں کی شفاعت سے کس کو انکار ہے۔حضرت موسیٰ کی شفاعت سے کئی مرتبہ بنی اسرائیل بھڑکتے ہوئے عذاب سے نجات پاگئے۔اور میں خود اس میں حساب تجربہ :- جنگ مقدس من روحانی خزائن جلد ۶ :