کسر صلیب — Page 17
ان الميت ليعذب ببكاء اهله کہ میت کو اس کے ساتھیوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔جب حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ سنا تو فرمایا :- : " يرحم الله عمراً لله ما حدث رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله ليعذب المومن بيكا و اهله عليه ولكن رسُول الله ما اِنَّ صلى الله عليه وسلّم قال إن الله ليزيد الكافِرُ عَذَابًا ببكاء اهله عليه وقالت حسيكم القرآن ولا تزر وازرة وزر أخرى له یعنی اللہ تعالیٰ عمرہ پہ رحم کر ہے۔نخدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تو نہیں فرمایا تھا کہ اللہ تعالٰی مومن کو اس کے اہل کے رونے کی وجہ سے سزا دیتا ہے۔البتہ حضور پاک نے یہ فرما یا تھا کہ کافر کا عذاب اس کے اہل کے رونے کی وجہ سے بڑھایا جاتا ہے۔نیز فرمایا کہ کیا متر آن میں یہ نہیں آیا کہ کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھہ ہرگز نہ اُٹھائے گی۔" گویا حضرت عائشہ نہ نے اس آیت قرآنی کو پیش فرما کہ یہ استدلال فرمایا کہ پھر نیہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میت کے اہل کے رونے کی سزا میت کو ملے گی۔یہ دلیل ایک نقلی دلیل ہے۔جس میں صحیح بات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ان دونوں مثالوں سے واضح ہو جاتا ہے کہ حقیقی اور اصل علیم کلام کا آغازہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی ہوگیا تھا اور بعد ازاں خلافت راشدہ کے سنہری زمانہ پاکه میں بھی نقلی و عقلی دلائل کے استعمال سے استدلال کرنے کا طریق جاری رہا۔حضرت امام ابو حنیفہ نے سب سے پہلے علم کلام میں دسترس حاصل کی گو اس زمانہ میں اس علم کو یہ مخصوص نام نہیں دیا گیا۔آپ کا نہ مانہ ۸۰ سے ۱۵۰ ہجری تک ہے۔دیا " اصطلاحی علم کلام کا باقاعدہ آغاز خلافت عباسیہ (۱۳۲ تا ۷۵۰ ہجری کے زمانہ میں ہوا جبکہ ہر قسم کی مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ لوگوں کو فکر و نظر کی آزادی بھی نصیب ہوئی۔خاندان عباسیہ کے ایک خلیفہ مہدی کی ہدایات پر اس زمانہ کے علماء نے اس علم میں خوب کام کیا۔اور اس علم کو ترقی دی لیکن ابھی اس وقت تک اس علم کو یہ نام نہ دیا گیا تھا۔علم کلام کا یہ نام ہارون الرشید کے نامور بیٹے مامون الرشید کے عہد میں رکھا گیا۔جبکہ بخاری کتاب الجنائز باب قول النبي صلى الله عليه وسلم لجذب الميت ببعض بكاء اهله عليه -