کسر صلیب — Page 219
۲۱۹ اعتراض نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔یہ تمام استعارات ہیں۔محبت کے پیرایہ ہیں۔ایسے الفاظ خدا تعالیٰ کے کلام میں بہت ہیں " سے نیز فرمایا : پہلی کتابوں میں جو کامل راستبازوں کو خدا کے بیٹے کر کے بیان کیا گیا ہے اس کے بھی یہ معنے نہیں ہیں کہ وہ در حقیقت خدا کے بیٹے ہیں کیونکہ یہ تو کفر ہے اور خدا بیٹیوں اور بیٹیوں سے پاک ہے بلکہ یہ معنے ہیں کہ ان کامل راستبازوں کے آئینہ صافی میں عکسی طور پر خدا نازل ہوا تھا اور ایک شخص کا عکس جو آئینہ میں ظاہر ہوتا ہے استعارہ کے سنگ میں گویا وہ اس کا بیٹا ہوتا ہے کیونکہ جیسا کہ بیٹا باپ سے پیدا ہوتا ہے ایسا ہی عکس اپنے اصل سے پیدا ہوتا ہے " سے ان سب حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ محض لفظ ابن اللہ سے الوہیت مسیح کا استدلال ایک باطل استدلال ہے۔میسج کی اس بارہ میں کوئی خصوصیت نہیں۔اور اگر خصوصیت ہو بھی تو پھر بھی یہ لفظ ولیل الوہیت نہیں بن سکتا۔کیونکہ یہ انجیل کا ایک محاورہ ہے جس کو ظاہر پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ ایسا کرنا خدا کی شان سے بعید ہے اور عقلا نا قابل قبول ہے۔پس ابن اللہ کے لفظ سے الوہیت مسیح کا استدلال باطل ہے۔لفظ ابن اللہ کے دلیل الوہیت نہ ہونے اور اس کے بطور مجاز استعمال ہونے کا سب سے بڑا واقعاتی ثبوت یہ ہے کہ خود حضرت مسیح علیہ السلام نے اس کو مجاز قرار دیا ہے۔سید نا حضہ شیخ موجود علیہ السلام نے جنگ مقدس میں اس امر پر تفصیلی بحث فرمائی ہے۔اس ضمن میں یوحنا کے باب ۱۰ کو پیش فرمایا ہے۔اور الوہیت مسیح کی تردید کے نقلی دلائل میں سے اس دلیل کو قطعی اور یقینی قرار دیا ہے۔یوحنا باب وسنت میں یوں لکھا ہے :- یہودیوں نے اسے سنگسالہ کرنے کے لئے پھر پتھر اُٹھائے۔یسوع نے انہیں جواب دیا کہ میں نے تم کو باپ کی طرف سے بہتر سے اچھے کام دکھائے ہیں ان میں سے کس کام کے سبب مجھے سنگسار کرتے ہو۔یہودیوں نے اسے جواب دیا کہ اچھے کام کے سبب نہیں بلکہ کفر کے سبب تجھے سنگسار کرتے ہیں اور اس لئے کہ تو آدمی ہو کر اپنے آپ کو خدا بناتا ہے۔یسوع نے انہیں جواب دیا کہ تمہاری شریعت میں یہ نہیں لکھا ہے کہ میں نے کہا تم : حقیقة الوحی مت روحانی خزائن جلد ۲۲ : ه ش۶۶۶ : - حقیقة الوحی شت ۶۶ روحانی خزائن جلد ۲۲ ؟