کسر صلیب — Page 218
YIA کرتے ہیں۔اس کے رد میں مسیح پاک علیہ السلام کے چند مزید حوالے درج ذیل ہیں۔فرمایا :- " یہ اور بات ہے کہ مسیح نے اپنے تئیں خدا کا بیٹا کہا ہے۔یا کسی اور کتاب میں اس کو بیٹا کہا گیا ہے۔ایسی تحریروں سے اس کی خدائی نکالنا درست نہیں۔بائبل میں بہت سے لوگوں کو خدا کے بیٹے کہا گیا ہے۔بلکہ بعض کو خدا بھی۔پھر مسیح کی تخصیص بے وجہ ہے اور اگر ایسا ہوتا بھی کہ کسی دوسرے کو ان کتابوں میں بجز مسیح کے خدا یا خدا کے بیٹے کا لقب نہ دیا جاتا تب بھی ایسی تحریروں کو حقیقت پر حمل کرنا نا دانی تھا کیونکہ خدا کے کلام میں ایسے استعارات بکثرت پائے جاتے ہیں۔مگر جس حالت میں بائیل کی رو سے خدا کا بیٹا کہلانے میں اور بھی مسیح کے شریک ہیں تو دوسر سے شرکاء کو کیوں اس فضیلت سے محروم رکھا جاتا ہے یا لے پھر آپ تحریر فرماتے ہیں :- انجیل میں تشکلیت کا نام و نشان نہیں۔ایک عام محاورہ لفظ ابن اللہ کا جو پہلی کتابوں میں آدم سے لیکر اخیر تک ہزار ہا لوگوں پر بولا گیا تھا وہی عام لفظ حضرت مسیح کے حق میں انجیل میں آگیا۔پھر بات کا بتنگڑ بنا یا گیا۔یہاں تک کہ حضرت مسیح اس لفظ کی بنیاد پر خدا بھی بن گئے۔حالانکہ نہ بھی مسیح نے خدائی کا دعویٰ کیا اور نہ کبھی خودکشی کی خواہش ظاہر کی " سے نین فرمایا : یسوع ابن مریم خدا نہیں ہے۔یہ کلمات جو اس کے منہ سے نکلے اہل اللہ کے منہ سے نکلا کرتے ہیں مگر ان سے کوئی خدا نہیں بن سکتا " سے ابن اللہ کے انجیلی محاورہ کی اصل بیان کر تے ہوئے آپ نے فرمایا : - " توریت میں کہا گیا ہے کہ یعقوب میرا بیٹا بلکہ میرا پوٹھا بیٹا ہے اور عیسی ابن مریم کو جو انجیلوں میں بیٹا کہا گیا اگر عیسائی لوگ اسی حد تک کھڑے رہتے کہ جیسے ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب اور یوسف اور موسیٰ اور داؤد اور سلیمان وغیرہ خدا کی کتابوں میں استعارہ کے رنگ میں خدا کے بیٹے کہلائے ہیں ایسا ہی عیسی بھی ہے۔تو ان پہ کوئی 102- لیکچر ہور من روحانی خزائن جلد ۱۹ سے: نور القرآن با صله روحانی خزائن جلد 9 : : کتاب البریه حنا روحانی خزائن جلد ۱۳ : ::