کسر صلیب — Page 220
۲۲۰ خدا ہو ؟ جبکہ اس نے انہیں خدا کہا جن کے پاس خدا کا کلام آیا اور کتاب مقدس کا باطل ہونا ممکن نہیں۔آیا تم اس شخص سے جسے باپ نے مقدس کرکے دنیا میں بھیجا کہتے ہو کہ تو کفر کہتا ہے اس لئے کہ میں نے کہا ئیں خدا کا بیٹا ہوں پر سے یہ حوالہ ابن اللہ سے استدلال الوہیت کی حقیقت پوری طرح واضح کر دیتا ہے۔جب میسج پر این اللہ ہونے کا دعویٰ کرنے کی وجہ سے کفر کا الزام لگایا گیا تو انہوں نے ایک دوسری مثال دے کہ خود وضاحت کر دی کہ ابن اللہ سے کیا مراد ہے۔اگر حضرت مسیح واقعی خدا تھے تو انہیں صاف لفظوں کردی میں اس کا اعلان کرنا چاہیے تھا۔اور پھر وہ اس دعوی کا ثبوت بھی دیتے لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ کہا تو یہ کہا کہ میں اس طرح خدا کا بیٹا ہوں جس طرح پہلے انبیاء اور برگزیدوں کے حق میں یہ وارد ہے کہ " تم خدا ہو گویا جن معنوں میں پہلے نبیوں کو خدا کہا گیا ہے۔اپنی معنوں میں سیوع خدا کا بیٹا تھا۔لہذا ثابت ہوا کہ ابن الله مجانا ا استعمال ہوا ہے نہ کہ حقیقتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں :- ” جب میسج کو یہودیوں نے اس کے اس کفر کے بدلہ میں کہ یہ ابن اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے پتھراؤ کرنا چاہا۔تو انہی انہیں صاف کہا کہ کیا تمہاری شریعت میں یہ نہیں لکھا کہ تم خدا ہو۔اب ایک دانشمند خوب سوچ سکتا ہے کہ اس الزام کے وقت تو چاہیئے تھا کہ مسیح اپنی پوری بریت کرتے اور اپنی خدائی کے نشان دکھا کر انہیں ملزم کرتے اور اس حالت میں کہ ان پر کفر کا الزام لگایا گیا تھا تو ان کا فرض ہونا چاہیئے تھا کہ اگر وہ فی تحقیقت خدا یا خدا کے بیٹے ہی تھے تو یہ جواب دیتے کہ یہ کفر نہیں بلکہ میں واقعی طور پر خدا کا بیٹا ہوں اور میرے پاس اس کے ثبوت کے لئے تمہاری ہی کتابوں میں فلاں فلاں موقع پر صاف لکھا ہے کہ میں قادر مطلق عالم الغیب خدا ہوں اور لاؤ میں دکھا دوں اور پھر اپنی قدرتوں طاقتوں سے ان کو نشانات خدائی بھی دکھا دیتے اور وہ کام جو انہوں نے خدائی سے پہلے دکھائے تھے ان کی فہرست الگ دے دیتے پھر ایسے بین ثبوت کے بعد کسی یہودی فقیہ اور فریسی کو طاقت تھی کہ انکار کرتا وہ تو ایسے خدا کو دیکھ کر سجدہ کرتے مگر بر خلاف اس کے آپ نے کیا تو یہ کیا کہ کہ دیا کہ تمہیں خدا لکھا ہے۔اب خدا ترس دل سے کر غور کرو کہ یہ اپنی خدائی کا ثبوت دیا یا ابطال کیا ؟" سے : يوحنا من :- ملفوظات جلد سوم ما :