کسر صلیب — Page 213
٣١٣ ایک کا بھی نہیں۔نرکسی مرد سے نے آکر عالم آخرت کی سرگزشت سنائی یا بہشت دوزخ کی حقیقت ظاہر کی یا دوسرے جہان کے چشمدید عجائبات کے بارہ میں کوئی کتاب شائع کی یا اپنی شہادتوں سے فرشتوں کے معبود کا ثبوت دیا بلکہ مردوں سے مراد وہ لوگ ہیں جوہ روحانی یا جسمانی طور پر مردوں کی مانند تھے۔پھر گویا دُعا کے ذریعے سے نئی زندگی پائی۔یہی حالی حضرت عیسی کے پرندے بنا نے کا ہے۔اگر وہ پیسے بچے پسند سے بناتے تو ایک، دنیا ان کی طرفند الٹ پڑتی اور پھر کیوں صلیب تک نوبت پہنچتی اور کیا ممکن تھا کہ عیسائی لوگ جو حضرت عیسی کے نڈا بنانے پر حریص ہیں وہ ایسے بڑے ندائی انسان کو چھوڑ دیتے۔بلکہ وں تو ایک تنکے کا پہائے بنا دیتے۔اسی ظاہر ہے کہ یہ واقع جو قرآن شریف میں مذکور ہے اپنے ظاہری معنوں پر محمول نہیں بلکہ اسے کوئی خفیف اسر مراد ہے جو بہت وقعت اپنے اندر نہیں رکھتا یا ساده معجزات مسیح کے دلیل الوہیت نہ ہونے کے سلسلہ میں چھوٹی بات یہ ہے کہ خود عیسائی حضرات میں بھی اب یہ خیال قوت پکڑ رہا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے مجرات ان کی اندر ہیت کی دلیل نہیں ہیں اور نہ ان کی الوہیت ثابت کرنے کے لئے ان معجزات کا سہارا لینا چاہیئے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی میں جب اصل معجزہ دکھانے کا وقت تھا تو اس وقت تو انہوں نے معجزہ سے انکار کر دیا۔یہ انکار ان کے مجر کا اعتراف ہے۔اور جو خود ہی عاجز ہونا تسلیم کرے اس کے خدا ہونے کا کیا سوال ایک سیمی مصنف لکھتا ہے :- "No miracle is reported which saved him from death, ar smoothed his path during life۔' یعنی مسیح کی زندگی میں کوئی ایسا معجزہ نظر نہیں آتا جنسی اُس کو موت سے بچالیا ہو یا نہ زندگی کے کی دوران اس کے راستہ کو خوشگوار بنایا ہو۔اب یہ خیال بھی پیدا ہو رہا ہے کہ محضر فہ میں علیہ السلام کے معجزات ان کی اندر بہیت کی رئیل نہیں۔چنانچہ ایک مسیحی لکھتے ہیں :- "ہم صفائی سے سمجھ لیں اور صاف دلی کے ساتھ مان لینے کو تیار ہیں کہ مسیحیت کو ثابت له : حقیقة الوحی مش حاشیہ - ریحانی خزائن جلد ۲۳ - (The begining of Chrischanity pp۔186 by Clarence Tucker Craig۔) - 1