کسر صلیب

by Other Authors

Page 211 of 443

کسر صلیب — Page 211

: نہ سکتے۔اب دیکھو کہ وہ کام بغیر رکھنے کے تو دنیامیں سما گئے لیکن لکھنے کی حالت میں وہ دنب قسم میں نہیں سمائیں گے۔یہ کس قسم کا فلسفہ اور کس قم کی منطق ہے۔کیا کوئی سمجھ سکتا ہے پہلے پھر آپ تحریر فرماتے ہیں کہ ان معجزات کو اس وجہ سے کبھی الوہیت کی دلیل قرانہ نہیں دیا جا سکتا جاسکتا کر ان کا کوئی واضح تاریخی اور ناقابل تردید ثبوت نہیں ہے۔اگر بنیاد صرف انجیل نویسوں کی روایت ہے تو وہ نا قابل اعتبار ہے۔اس کی ایک وجہ اوپر ذکر ہو چکی ہے۔بعض اور وجوہ بھی ہیں جن کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :- "میں نے انجیلوں پر ایک یہ بھی اعتراض کیا تھا کہ ان میں جس قدر معجزات لکھے گئے ہیں جن سے خواہ مخواہ حضرت عیسی علیہ السلام کی خدائی ثابت کی جاتی ہے۔وہ معجزات ہرگزہ ثابت نہیں ہیں۔کیونکہ انجیل نویسیوں کی نبوت جو مدار نبوت تھی ثابت نہیں ہو سکی اور نہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور نہ کوئی معجزہ دکھلایا۔باقی رہا یہ کہ انہوں نے بحیثیت ایک وقائع نویس کے معجزات کو لکھا ہو۔سو وقائع نویسی کے شرائط بھی ان میں مختفق نہیں کیونکہ وقائع نویس کے لئے ضروری ہے کہ وہ دروغ گو تہ ہو اور دوسرے یہ کہ سکسی حافظہ میں خلل نہ ہو اور تیسرے یہ کہ وہ عمیق الفکر ہو اور سیکھی خیالی کا آدمی نہ ہو اور چو تھے یہ کہ وہ متفق ہو اور رسمی باتوں پر کفایت کرنے والا نہ ہو اور پانچویں یہ کہ جو کچھ سکھے چشم دید لکھے محض رطب و یابس کو پیش کرنے والا نہ ہومگر انجیل نویسوں میں ان شرطوں میں سے کوئی شرط موجود نہ تھی یا شد پھر مزید وضاحت کے طور پر فرمایا :- یہ ثابت شدہ امر ہے کہ انہوں نے اپنی انجیلوں میں محمداً جھوٹ بولا ہے۔چنانچہ نامرہ کے معنے اگلے کئے اور عمانوایل کی پیش گوئی کو خواہ مخواہ مسیح پیر جمایا اور انجیل میں لکھا کہ یسوع کے تمام کام لکھے جاتے تو وہ کتابیں دنیا میں سمانہ سکتیں۔اور حافظہ کا یہ حال ہے کہ پہلی کتابوں کے بعض حوالوں میں غلطی کھائی اور بہت سی بے اصل باتوں کو لکھنے کیہ ثابت کیا کہ ان کو عقل اور فکر اور تحقیق سے کام لینے کی عادت نہ تھی بلکہ بعض جگہ ان انجیلوں میں نہایت قابل شرم جھوٹ ہے جیسا کہ میتی باب ہ میں میسوع کا یہ قول ہے کہ تم سن چکے ہو کہ اپنے پڑوسی سے محبت کر اور اپنے دشمن سے نفرت کر حالانکہ پہلی کتابوں لیکچر لاہور میشه روحانی خزائن جلد ۲ : - کتاب البر یه مشت ان ریحانی خندائن جلد ۱۳ :