کسر صلیب

by Other Authors

Page 210 of 443

کسر صلیب — Page 210

۲۱۰ ہوئے فرمایا ہے: زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ حضرت مسیح معجزہ نمائی سے صاف انکار کر کے کہتے ہیں کریں ہر گنہ کوئی معجزہ دکھا نہیں سکتا مگر پھر بھی عوام الناس ایک انبار معجزات کا ان کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔نہیں دیکھتے کہ وہ تو کھلے کھلے انکار کئے جاتے ہیں۔چنانچہ ہیرودیس کے سامنے حضرت مسیح جب پیش کئے گئے تو ہیرودیس میسج کو دیکھ کہ بہت خوش ہوا کیونکہ اس (کو) اس کی کوئی کرامت دیکھنے کی امید تھی۔پہ ہیرودیس نے ہر چند اس بارہ میں مسیح سے بہت درخواست کی لیکن اپنی کچھ جواب نہ دیا تب ہیرودیس اپنے تمام مصاحبوں کے کمیت اسی بے اعتقاد ہو گیا۔اور اسے ناچیز ٹھہرایا۔دیکھو لوقا باب ۲۲ - اب خیال کرنا چاہیئے کہ اگر حضرت مسیح میں اقتداری طور پر جیسا کہ عیسائیوں کا خیال ہے معجزہ نمائی کی قوت تھی تو ضرور حضرت مسیح ہیرودیس کو جو ایک خوش اعتقاد آدمی اور ان کے وطن کا بادشاہ تھا کوئی معجزہ دکھاتے مگر وہ کچھ بھی دکھا نہ سکے یا اے معجزات مسیح کے دلیل الوہیت نہ ہونے کے سلسلہ میں چوتھی بات یہ ہے کہ مسیح کے ان معجزات کا وجود کوئی یقینی اور قطعی امر نہیں ہے بلکہ محض ایک قصہ کی حیثیت ہے۔اس کی وجہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ تحریر فرمائی ہے کہ جن لوگوں نے ان معجزات کو بیان کیا ہے وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے حواری نہ تھے۔اور نہ انہوں نے بچشم خود ان معجزات کو دیکھا تھا۔گویا سنی سنائی بات کو اپنے طور پر قلمبند کر دیا۔پس کیا یہ روایت قابل قبول ہو سکتی ہے۔خاص طور پر اس صورت میں کہ ان پر ایک ایسے عقیدہ کی عمارت کھڑی کی بجا رہی ہو جو عیسائیت کے عقائد میں رگِ جان کی حیثیت رکھتا ہے۔ہرگز نہیں۔معجزات کے ان راویوں کو مبالغہ کرنے کی عادت تھی جو ان کی روایت کو کمزور کر کے کر ناقابل قبول بنا دیتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- اگر گذشته معجزات جو اب محض قصوں کے رنگ میں پیش کئے جائیں تو اول تو ہر ایک مفکر کہہ سکتا ہے کہ خدا جانے کہ ان کی اصل حقیقت کیا ہے۔اور کسقدر مبالغہ ہے کیونکہ کچھ شک نہیں کہ مبالغہ کہ نا انجیل نویسوں کی عادت میں داخل تھا چنانچہ ایک انجیل میں یہ فقرہ موجود ہے کہ مسیح نے اتنے کام کئے کہ اگر وہ سکھے جاتے تو دنیا میں سما شه و ازاله او عام حصه اون من اریحانی خزائن جلد موت طا