کسر صلیب — Page 208
۔T پس ثابت ہوا کہ معجزات اپنی ذات میں الوہیت کا ثبوت نہیں دگہ نہ مسیع کے حواری میں سے بڑھ کہ خدا ہوتے کیونکہ ان کو مسیح سے زیادہ اعلیٰ معجزات دکھانے کی طاقت تھی۔دوسری بات یہ ہے کہ جس قسم کے معجزات حضرت مسیح علیہ السلام کے بیان کئے جاتے اسی قسیم کے معجزات بلکہ اسے بڑھکہ معجزات دیگر انبیاء کے ثابت ہیں۔مردوں کو زندہ کرنے کا سوال ہو تو اس اليسع نبی نے مرد سے زندہ کئے۔(۲) سلاطین ہے )۔بیماروں کو اچھا کرنے کا سوال ہو تو یہ جواب ہے کہ الیسع نے سپہ سالانہ کو جو کوڑھی تھا اچھا کیا۔( سلاطین ) - " الغرض جس قدر منجزات مسیح کے بیان کئے جاتے ہیں ان سے بڑھ کہ معجزات دیگر انبیاء نے دکھائے پس کیا وجہ ہے کہ مسیح کمتر معجزات کے باوجود خدا ہو گیا اور دوسر سے لوگ اعلیٰ معجزات دیکھانے کے باوجود انسان کے انسان راہیں۔یہ بات قرین انصاف نہیں۔اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- " حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات موسیٰ نبی کے معجزات سے کچھ بڑ ہے کہ نہیں ہیں اور ایلیانی کے نشانوں کا سب صیح کے نشانوں سے مقابلہ کریں تو ایڈیا کے معجزات کا پلہ بھاری معلوم ہونا ہے۔پس اگر معجزات سے کوئی خدا بن سکتا ہے تو یہ سب بزرگ خدائی کے مستحق ہیں یا ا " اس کے معجزاست دوسر سے اکثر نبیوں کی نسبت بہت ہی کم ہیں مثلاً اگر کوئی عیسائی ایٹمیانی کے معجزات سے جو بائبل میں مفصل مذکور ہیں جن میں سے مردوں کا نہ ندہ کہنا بھی ہے مسیح ابن مریم کے معجزات کا مقابلہ کر سے تو اس کو ضرور اقرار کرنا پڑے گا کہ ایلیانی کے معجزات شان اور شوکت اور کثرت میں مسیح ابن مریم کے معجزات سے بہت بڑھکر ہیں یہ اگر اس کسی معجزات ہیں تو وہ دوسرے نبیوں سے بڑھ کر نہیں ہیں بلکہ الیاس نبی کے معجزات اسی بہت زیادہ ہیں۔اور موجب بیان یہودیوں کے اس سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔محض فریب اور مکر تھا " سے محض زبردستی اور تحکیم کے طور پر حضرت مسیح کو خدا بنایا جاتا ہے ان میں کوئی بھی ایک ایسی خاص طاقت ثابت نہیں ہوئی جو دوسرے نبیوں میں پائی نہ جائے بلکہ بعض دوسرے نبی معجزہ نمائی میں ان سے بڑھ کر تھے یا تے یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن وحکم نہیں۔19 سے سیکھوں ہور صبا روحانی خزائن جلد ۲۰ ہے :- نسیم دعوت مثل روحانی خزائن جلد ۱۹ به : مشا سے: چشمه سیحی ملا شود سیکچر سیالکوٹ ۳ +