کسر صلیب — Page 207
وس (۳) ایک عیسائی یہ بات کہ کہ کہ اس کا خدا کسی زمانہ میں تین دن تک مرار رہا تھا کس درجہ اندر ہی اندر اپنے اس قول سے ندامت اٹھاتا ہے اور کسی قدر خود روح اسکی اسے ملزم کرتی ہے کہ کیا خدا بھی مرا کہتا ہے۔اور جو ایک مرتبہ مر چکا اس پر کیونکر بھروسہ کیا جائے کہ پھر نہیں مرے گا۔پس ایسے خدا کی زندگی پر کئی دیں نہیں بلکہ کیا معلوم کہ شاید مربی گیا ہو کیونکہ اب نہ ندوں کے اس میں آثارہ نہیں پائے جاتے وہ اپنے خدا خدا کرنے والوں کو کوئی جواب نہیں دے سکتا۔کوئی معجزانہ کلام نہیں دکھلا سکتا یا ہے (۳) " یہ بات بھی عیسائیوں کی ہی ایجاد ہے کہ خد ا بھی مرا کرتا ہے " سے : ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ وہ مسیح جو عیسائیوں کے اعتقاد میں ایک دفعہ مر گیا تھا خواہ تین دن کے لئے ہی ہو ہر گنہ خدا نہیں ہو سکتا۔چودھویں دلیل عیسائی حضرات حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات کو بڑے طمطراق سے پیش کرتے ہیں اور ان سے حضرت علی علیہ السلام کی الوہیت کا استنباط کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے عیسائیوں کی اس دلیل کا زبردست تنقیدی جائزہ لیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ معجزات مسیح ہر گھستان کی الوہیت کی دلیل نہیں ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ معجزات اپنی ذات میں الوہیت کی دلیل نہیں ہیں۔اس اصول کی تائید انخیل کی ان عبارات سے ہوتی ہے۔مسیح نے اپنے حواریوں سے کہا :- "میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر ایمان رکھو اور شک نہ گرد تو نہ صرف وہی کرو گے جو انجیر کے درخت کے ساتھ ہوا بلکہ اس پہاڑہ سے بھی کہو گے کہ تو اکھڑ جا اور سمندر میں جا پڑے تو یوں ہی ہو جائے گا۔اور جو کچھ دعا میں ایمان کے ساتھ مانگو گے وہ سب تم کو ملے گا سے پر لکھا ہے: یں تم سے بھی بچ کہتا ہوں کہ جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جوئیں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا بلکہ ان سے بھی بڑے کام کرے گا یہ ہے چشمه مسیحی حاشیه مدت زمانی خزائن جلد ۲۰ : شه : ست بین طلا روحانی خزائن جلد از سه امتی اے کے یوحنا کیا؟