کسر صلیب — Page 203
۲۰۳ ** بے قصور اور بے گناہ تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اول تو انا جیل سے حضرت مسیح علیہ السلام کا بے قصور اور بے گناہ ہونا ہی ثابت نہیں اور اگر بالفرض ایسا ثابت بھی ہو جائے تو پھر بھی یہ امر الوہیت کی دلیل نہیں بن سکتا۔کیونکہ بے قصور ہوتا الوہیت کا استحقاق پیدا نہیں کرتا۔از روئے اناجیل امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بے قصور اور بے گناہ نہ تھے۔اس کے ثبوت میں کسی قصور یا گناہ کو پیش کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ خود حضرت مسیح علیہ السّلام کا وہ قول ہی کافی ثبوت ہے جس میں لکھا ہے :- " یسوع نے ایسی کہا تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے ؟ کوئی نیک نہیں مگر ایک معنی خدا ہے پھر متی کی انجیل میں لکھا ہے:۔" اور دیکھو ایک شخص نے پاس آکہ اس سے کہا اسے استاد میں کونسی نیکی کروں تا کہ ہمیشہ کی زندگی پاؤں۔استنسی اس سے کہا کہ تو مجھ سے نیکی کی بابت کیوں پوچھتا ہے ؟ نیک تو ایک ہی ہے " سے حضرت مسیح علیہ السلام کے اس قول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسیح پاک علیہ السلام فرماتے ہیں :- " تعجب ہے کہ حضرت مسیح نے کسی مقام میں نہیں فرمایا کہ میں خداتعالی کے حضور میں ہر ایک قصور اور ہر ایک خطا سے پاک ہوں۔۔۔خدا تعالیٰ کے حضور میں حضرت مسیح صاف اپنے تقصیر وار ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔جیسا کہ متی باب 19 سے ظاہر ہے کہ انہوں نے اپنے نیک ہونے سے انکار کیا " سے ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السّلام نے کبھی اپنے نیک اور بے قصور ہونے کا دعوئی نہیں کیا۔اس موقعہ پر عیسائی کہ دیا کرتے ہیں کہ مسیح کے یہ اقوال تو عاجزی اور انکساری کے اظہار کے لئے ہیں۔ان کو حقیقت پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر انجیل کے بیانات کو درست سمجھا جائے تو ماننا پڑتا ہے کہ مسیح کا یہ قول کسی عاجزی یا خاکساری کا اظہار نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔کیونکہ انجیلی بیانات سے حضرت مسیح علیہ السلام کی خدائی کے ثبوت کا کیا سوال۔ان سے تو حضرت بیج کے ایک کامل اور با اخلاق انسان ہونے کا بھی ثبوت نہیں ملتا۔حضرت مسیح موعود علی السلام عیسائیوں کے اسی عذر کے رد میں کہ مسیح کے یہ اقوال خاکساری پرمشتمل لوقا ه : متی :- جنگ مقدس ص روحانی خزائن جلد 4