کسر صلیب

by Other Authors

Page 202 of 443

کسر صلیب — Page 202

ان سب حوالہ جات سے روزہ روشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام میں خدائی صفات نہیں پائی جاتیں۔بلکہ وہ عام انسانوں کی طرح ایک انسان تھے تو پھر وہ ہرگز ہرگز خدا نہیں ہو سکتے۔دسویں دلیل الوہیت مسیح کے عقیدہ کے خلاف ایک اور دلیل یہ ہے کہ یہ عقیدہ خدائی شان اور تقدس کے خلاف ہے۔عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح خدا کے بیٹے اور خدائی تجلیات کے واحد مظہر تھے۔ان سے قبل کوئی اس منصب کا شخص نہیں گزرا۔ظاہر ہے کہ اس عقیدہ سے خدا تعالی کی ہستی پر بخیل اور کنجوسی کا الزام بھی عائد ہوتا ہے۔اس نے سوائے ایک کے باقی سب کو اپنے فیضان سے محروم رکھا۔علاوہ ازیں خدا کی شان اور تقدس پر بھی حرف آتا ہے کہ گویا اسکی فیضان کو حاصل کرنے والا اور اس کا مظہر صرف ایک وجود ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوہیت سیج کی تردید کے ضمن میں اس دلیل کو بھی پیش فرمایا ہے۔حضرت مسیح کو خدا ماننے کے ذکر پر فرمایا : و پھر اس میں خدا تعالیٰ کی بھی بہتک اور بے ادبی لازم آتی ہے گویا خدا نے بخل کیا کہ اپنی تجلیات کا مظہر صرف ایک ہی شخص کو ٹھہرایا اور اپنے فیوض کو صرف حضرت عیسی تک ہی محدود کر دیا۔غور تو کرو اگر کسی بادشاہ کی رعایا صرف ایک فرد واحا ہی ہو تو کیا اس میں اجارہی اس بادشاہ کی تعریف ہے یا ہتک ؟ اگر یہ کہا جاوے کہ بادشاہ کا فیض اور انعام صرف ایک خاص نفس واحد تک ہی محدود ہے تو پھر اس میں اس بادشاہ کی کیا بڑائی ہے ؟ پس جب خدا کے کروڑوں بند سے دنیا کے مختلف ممالک میں موجود تھے تو کیا وجہ کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فیض کو صرف بنی اسرائیل ہی تک محدود رکھا۔دیکھو بند پانی بھی آخر کا رگت ده ہو جاتا ہے اور کیچڑ کی صحبت سے اس میں ایک قسم کا تعفن پیدا ہو جاتا ہے تو پھر خدا کے اوپر ایسا بہتان باندھنا کہ اسکی فیوض اور برکات صرف ایک خاص قوم تک ہی محدود اور بند ہیں۔خدا کی شان کی بہنگ اور بے ادبی ہے یا اے گیاه شوین دلیل بعض اوقات مسیحی حضرات حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کی دلیل یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سے علیہ اسلام : ملفوظات جلد دہم ص۲۲۲