کسر صلیب

by Other Authors

Page 204 of 443

کسر صلیب — Page 204

۲۰۴ ہیں۔فرماتے ہیں کہ انجیل کے جن مقامات سے عیسائی لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کی دلیل لیتے ہیں : "وہ تو اس کی انسانیت ہی کو ثابت کرتے ہیں۔اور انسانیت کے لحاظ سے بھی اسے عظیم الشان انسانوں کی فہرست میں داخل نہیں کرتے۔جب اسے نیک کہا گیا تو اس نے انکار کیا۔اگر اس کی روح میں بقول عیسائیاں کامل تظہر اور پاکیزگی تھی پھر وہ یہ بات کیوں کہتا ہے کہ مجھے نیک نہ کہو۔علاوہ بریں یسوع کی زندگی پر بہت سے اعتراض اور الزام لگائے گئے ہیں اور جس کا کوئی تسلی بخش جواب آج تک ہماری نظر سے نہیں گذرا۔ایک یہودی نے یسوع کی سوانح عمری لکھی ہے اور وہ یہاں موجود ہے۔اس نے لکھا ہے کہ یسوع ایک لڑکی پر عاشق ہو گیا تھا اور اپنے استاد کے سامنے اس کے حسن و کہ جمال کا تذکرہ کہ بیٹھا تو استاد نے اُسے عاق کر دیا۔اور انجیل کے مطالعہ سے جو کچھ سیح کی حالت کا پتہ لگتا ہے وہ آپ سے بھی پوشیدہ نہیں ہے کہ کس طرح پر وہ نامحرم نوجوان عورتوں سے ملتا تھا اور کس طرح یہ ایک بازاری عورت سے عطر ملواتا تھا اور مشیوع کی بعض نانیوں اور دادیوں کی جو حالت بائبل سے ثابت ہوتی ہے وہ بھی کسی سے مخفی نہیں پھر یہودیوں نے اس کی ماںپر جو کچھ الزام لگائے ہیں وہ بھی ان کتابوں میں درج ہیں۔ان سب کو اگر اکٹھا کر کے دیکھیں تو اس کا یہ قول کہ مجھے نبیک نہ کہو اپنے اندر حقیقت رکھتا ہے۔اور یہ فروتنی یا انکساری کے طور پر ہر گتہ نہ تھا۔جیسا لبعض عیسائی کہتے ہیں اب یا پر میں پوچھتا ہوں کہ جس شخص کے اپنے ذاتی چال چلن کا یہ حال ہو اور حسب و نسب کا یہ۔تو کیا خدا ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔یہ باتیں اللہ تعالیٰ کے تقدس کے صریح خلاف ہیں " اے پس اس بیان سے واضح ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو بے گناہ قرار دینا اور اسے الو بیت مسیح کا استدلال کرنا بناء الفاسد علی الفاسد کی مثال ہے۔بار تهوين دليلك حضرت مسیح علیہ السلام کے حالات زندگی اور آپ کی زندگی کے واقعات انا جیل میں کافی تفصیل سے لکھے گئے ہیں۔ان حالات کے پڑھنے سے ایک منصف مزاج بآسانی اندازہ لگا سکتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام له : ملفوظات جلد سوم مه