کسر صلیب — Page 201
-11 خدا کہلا کر پھر اس پر موت بھی آجائے۔کیا یہ مجھ میں آسکتا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ مجھ میں اسکتا ہے کہ خُدا شیطان کے پیچھے پیچھے چلے اور شیطان اسی سجدہ چاہیے اور اس کو دنیا کی طمع دے۔کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ وہ شخص جس کی ہڈیوں میں خدا گھا ہوا تھا ساری رات رو رو کر دعا کرتا رہا اور پھر بھی استجابت دعا سے محروم اور بے نصیب ہی رہا (۳۰) " عیسائیوں کے خدا کا حلیہ یہ ہے کہ وہ ایک آدمی مریم نیت یعقوب کا بیٹا ہے جو بتیس برس کی عمر پا کہ اس دار الفنا سے گزر گیا۔جب ہم سوچتے ہیں کہ کیونکر وہ گرفتار ہونے کے وقت ساری رات دعا کہ کسے پھر بھی اپنے مطلب سے نامرادہ رہا اور رہ ذلت کے ساتھ پکڑا گیا اور مقبول عیسائیوں سے سولی پر کھینچا گیا اور امیلی اپنی کرتا مر گیا۔تو ہمیں یکدفعه بدن پر لرزہ پڑھتا ہے کہ کیا ایسے انسان کو جس کی دُعا بھی جناب الہی میں قبول نہ ہو سکی اور نہایت ناکامی اور نامرادی سے ماریں کھانا کھاتا مر گیا۔قادر خدا کہہ سکتے ہیں ذرا اس وقت کے نظارہ کو سامنے لاڈ جبکہ یسوع حوالات میں ہو کہ پیلاطوس کی علامت سے ہیرو ولیس کی طرف بھیجا گیا۔کیا یہ خدائی کی شان ہے کہ حوالات میں ہو کہ سہتھکڑی ہاتھ میں نہ بخیر پاؤں میں چند سپاہیوں کی حراست میں چالان ہو کر جھڑ کیاں کھا تا گلیل کی طرف روانہ ہوا اور اس حالت پر سلامت میں ایک حوالات سے دوسری حوالات میں پہنچا۔پیلاطوس نے کرامت دیکھنے پر چھوڑنا چاہا اس وقت کوئی کرامت دکھلا نہ سکا۔ناچا۔پھر حراست میں واپس کر کے یہودیوں کے حوالے کیا گیا اور انہوں نے ایک دم میں انسکی جان کا نہ تمام کر دیا۔اب ناظرین خود سوچ لیں کہ کیا اصلی او حقیقی خدا کی یہی علامتیں ہوا کرتی ہیں کیا کوئی پاک کا نشنس اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ وہ جو زمین و آسمان کا خالق اور بے انتہا قدرتوں اور طاقتوں کا مالک ہے وہ اخیر پر ایسی بدنصیب اور کمزور اور لسیل حالت میں ہو جائے کہ شریدہ انسان اس کو اپنے ہاتھوں میں مل ڈالیں۔اگر کوئی ایسے خدا کو پوجے اور اس پر بھروسہ کرے تو اسے اختیار ہے کہ نصر انجام آتھم ص ۳۲ روحانی خزائن جلد سے : ست بیچن من روحانی خزائن جلد ۱ : ۱۱: