کسر صلیب — Page 197
194 ہیں۔بھلا۔۔۔۔ایسے کمزور و ناتواں خدا کے ماننے سے بجز ذلت و ادبار کی مار کے اور حاصل ہی کیا ؟ انہوں نے بھی فیصلہ کر لیا کہ ایسے خدا سے ہم یو نہی اچھے ہیں۔یہ ان کا قصور نہیں بلکہ تعلیم کا قصور ہے “ نے (19) وكيف نظن ان عیسى هو الله وما قرأنا فلسفة يثبت منها ان رجلاً كان يأكل ويشرب ديبول ويتغوط وينام ويمرض ولا يعلم الغيب ولا يقدر على رفع الاعداء ودعاء لنفسه عند مصيبة مبتهلا متضرعًا من أول الليل إلى آخره نما اجيبت دعوته وما شاء الله ان يوافق ارادته بارادته وقادة الشيطان الى جبل ناتبعه فما استطاع ان يفارقه ومات قائلاً الى اعلى لما سبقتني ومع ذلك إله وابن الله - سبحانه ان هذا الا بهتان مبين " ترجمہ : ہم کس طرح یہ خیال کو سکتے ہیں کہ حضرت عیسی خدا ہیں ہم نے کوئی ایسا فلسفہ نہیں پڑھا کہ جس کی رو سے ثابت ہوتا ہو کہ ایک کھانا پینا انسان جو جو ائج بشریت اپنے ساتھ یہ کھتا ہے سوتا بھی ہے اور بیمار بھی ہوتا ہے علم غیب نہیں جانتا اور نہ دشمنوں کے مقابلہ کی طاقت رکھتا ہے اور مصیبت کے وارد ہونے پر شروع رات سے لے کر آخر رات تک انتہائی تفریح اور عاجزی سے دعا کرتا رہتا ہے۔لیکن پھر بھی اس کا ارادہ خدائی ارادہ سے ہم آہنگ نہیں ہوتا اور نہ اس کی دنیا قبول ہوتی ہے۔بشیطان اس کو پہاڑ پر لے جاتا ہے تو اس کے پیچھے پیچھے چل پڑتا ہے اور اتنی بھی طاقت نہیں رکھتا کہ اس کو چھوڑ دے اور انجام کار - ایلی ایلی لما سبقتنی کہتے ہوئے جان دے دیتا ہے۔ان سب باتوں کے باوجود کوئی انسان خدا ہو سکتا ہے۔یا خدا کا بیٹا ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس بہتان سے پاک ہے۔(٢٠) " عیسائی عقیدہ کی رو سے خدا تعالٰی عالم الغیب نہیں ہے کیونکہ جس حالت میں حضرت :- ملفوظات جلد دہم ۲۲۵ ، ۲۲ : ذرالحق حصہ اول جنت - روحانی خزائن جلد : 2: