کسر صلیب — Page 196
۱۹۶ روح تھی اور یہ خود اللہ تعالیٰ ہی تھے توں علمی کے اقرار کی کیا وجہ۔کیا خدا تعالیٰ بعد علم کے نادان بھی ہو جایا کرتا ہے۔پھر متی ۱۹ باب ۱۶ میں لکھا ہے " دیکھو ایک ، نے آکے اسے دیعنی سیح سے ) کہا۔اسے نیک استاد میں کونسا نیک کام کروں کہ ہمیشہ کی زندگی پاؤں۔استنی اسے کہا تو کیوں مجھے نیک کہتا ہے۔نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا پچھڑتی ۲۰۰ میں لکھا ہے کہ نہ بدی کے بیٹوں کی ماں نے اپنے بیٹوں کے حضرت مسیح کے دائیں بائیں بیٹھنے کی درخواست کی تو فرمایا اس میں میرا اختیار نہیں۔اب فرمائیے قادر مطلق ہونا کہاں گیا۔قادر مطلق بھی کبھی بے اختیار ہو جایا کرتا ہے۔اور جبکہ اس قدر تعارض صفات میں واقع ہو گیا کہ حضرات حواری تو آپ کو قادر مطلق خیال کرتے ہیں اور آپ قادر مطلق ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔تو ان پیش کردہ پیش گوئیوں کی کیا عزت اور کیا وقعت باقی رہی جکسی لئے یہ پیش کی جاتی ہیں۔وہی انکار کرتا ہے کہ میں قادر مطلق نہیں۔یہ خوب بات ہے پھرستی پر میں لکھا ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ مسیح نے تمام رات اپنے بیچنے کے لئے دعا کی اور نہایت غمگین اور دیگیر اور رہو رہو کہ الہ میل شانہ سے التماس کی کہ اگر ہوسکے تو یہ پیالہ مجھ سے گزر جائے۔اور نہ صرف آپ بلکہ اپنے حواریوں سے بھی اپنے لئے دکھا کرائی۔جیسے عام انسانوں میں جب کسی پر کوئی مصیبت پڑتی ہے اکثر مسجدوں وغیرہ میں اپنے لئے دعا کرایا کر تے ہیں۔لیکن تعجب یہ کہ باوجود اس کے خواہ مخواہ قادر مطلق کی صفت ان پر تھوپی جاتی ہے اور ان کے کاموں کو اقتداری سمجھا جاتا ہے۔مگر پھر بھی وہ دعا منظور نہ ہوئی۔اور جو تقدیر میں لکھا تھا وہ ہو ہی گیا۔اب دیکھو اگر وہ قادر مطلق ہوتے تو چاہیے تھا کہ یہ اقتدار اور یہ قدرت کاملہ پہلے ان کے اپنے نفس کے لئے کام آتا۔جب اپنے نفس کے لئے کام نہ آیا تو غیروں کوان سے توقع رکھنا ایک طبع خام ہے ، عیسائی مذہب ہیں :- : * + (١٨) دنیا کو خدائی کا جو نمو نہ دیا گیا تھا وہ ایسا کمنز در اور ناتواں نکلا کہ تھپڑ کھائے ، پھانسی دیا گیا۔اور دشمنوں کا کچھ نہ کر سکا۔پس انہی باتوں سے وہ خدا کے بھی منکر ہو گئے ہیں۔اور وہ لوگ بے چارے ہیں بھی معذورہ کیونکہ یہ سب امور فطرت انسانی کے بالکل خلاف پڑتے :- جنگ مقدس صله روحانی خزائن جلد ۶ :