کسر صلیب — Page 198
۱۹۸ عیسی کو خُدا قرار دیا گیا ہے اور وہ خود اقرار کرتے ہیں کہ میں جو خدا کا بیٹا ہوں مجھے قیامت کا علم نہیں۔پس اس سے بجز اس کے کیا نتیجہ نکل سکتا ہے کہ خدا کو قیامت کا علم نہیں کہ کب آئے گی کیا ہے (M)) ان کی کمزوریاں گواہی دے رہی ہیں کہ وہ محض انسان تھے ؟ " (۲۳) " صاف ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح اپنے اقوال کے ذریعے اور اپنے افعال کے ذریعے اپنے تئیں عاجزہ ہی ٹھہراتے ہیں اور خدائی کی کوئی بھی صفت ان میں نہیں۔ایک عاجز انسان ہیں۔ہاں نبی اللہ بے شک ہیں۔خدا کے سچے بیٹول ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سے (۳۳) J " پھر وہ اسیح۔ناقل ) ابن اللہ کہا کہ قیامت کے وقت سے بھی بے خبر ہے۔جیسا کہ مسیح کا اقرار انجیل میں موجود ہے کہ وہ با وجود ان اللہ ہونے کے نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی۔باوجود خُدا کہلانے کے قیامت کے علم سے بے خبر ہونا کس قدر بے ہودہ بات ہے بلکہ قیامت تو دُور ہے اس کو تو یہ خبر بھی نہ تھی کہ جس درخت انجیر کی طرف چلا اس سیر کوئی پھل نہیں " سے۔(۲۴) عیسائیوں کے اس متناقض بیان کو کون سمجھ سکتا ہے۔کہ ایک طرف تو یسوع کو خدا ٹھہرایا جاتا ہے پھر وہی خُدا کسی اور خدا کے آگے رو رو کر دعا کرتا ہے جبکہ تینوں خدا یسوع کے اندر ہی موجود تھے اور وہ ان سب کا مجموعہ تھا تو پھر اس نے کس کے آگے رو رو کر دعا کی اسی تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیوں کے نزدیک ان تین خداؤں کے علاوہ کوئی اور بھی زبر دست خدا ہے جو ان سے الگ اور ان پر حکمران ہے جس کے آگے تینوں خداؤں کو رونا پیٹا " شم : چشمه سیحی ده ریحانی خزائن جلد ۲۰ شهر لیکچر سیالکوٹ مت روحانی خزائن جلد ۲ که جنگ مقدس همه روحانی خزائن جلد چشمه سیحی حنا ش حقیقة الوحی ها روحانی خزائن جلد ۲۲ : هست