کسر صلیب

by Other Authors

Page 15 of 443

کسر صلیب — Page 15

1 کیا جاتا ہے اور یہ علم دیگر مذاہب پر کاری ضرب لگاتا ہے۔اسوجہ سے یہ نام پڑ گیا۔۔ایک رائے یہ ہے کہ ثبوت اور ولائل کی قوت کے لحاظ سے اس کا نام کلام پڑ گیا ہے۔کا نہ ھوا لکلام گو یہ کہ کلام ہے ہی یہی۔جیسے کہ کسی مضبوط جسم کے انسان کو دیکھے کر کہا جاتا ہے۔هذا حمو الرجل بس دلائل کی قوت کے اعتبار سے اس علم کو یہ نام دیا گیا۔- آٹھویں وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ چونکہ اس علم میں دیگر سب علوم کی نسبت زیادہ نزاع اور اختلاف ہے۔اس لئے یہ علم سو سے زیادہ بحث اور کلام کا مستحق ہے اور اسی بناء پر اس کو یہ نام دیا گیا۔ان سیب وجوہ میں سے عام طور پہ دلیلی وجہ کو زیادہ قرین قیاس سمجھا گیا ہے لیموں ناشبلی نعمانی نے وجہ تسمیہ کے اس اختلاف کے بارہ میں جو کچھ لکھا ہے وہ درج ذیل ہے :- و اس امر میں اختلاف ہے کہ علم کلام کا نام کلام کیوں رکھا گیا۔مؤرخ ابن خلکان نے محمد ابو الحسین معتزلی کے تذکرہ میں سمعانی سے نقل کیا ہے کہ چونکہ سب سے پہلا اختلاف جو عقائدہ کے متعلق پید اہو، وہ کلام الہی کی نسبت پیدا ہوا۔اس مناسبت سے علم عقاید کا نام کلام پڑ گیا۔لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔نہ پہلا اختلاف کلام الہی کی نسبت پیدا ہوا نہ بنوامیہ کے زمانہ تک اس فون کو کلام کہتے تھے۔علامہ شہرستانی نے ملل و نحل میں لکھا ہے کہ اس کی وجہ یا تو یہ تھی کہ مسائل عقاید میں جس مسئلہ پر بٹر سے مصر کے رہے وہ کلام الہی کا مسئلہ تھا یا اس وجہ یا سے کہ چونکہ یہ علم فلسفہ کے مقابلہ میں ایجاد ہوا تھا۔اس لئے فلسفہ کی ایک شاخ وہ ایعنی منطق کا جو نام تھا وہی اس فن کا بھی نام رکھا گیا۔کینگ منطق اور کلام مرادف اور ہم معنی الفاظ ہیں۔یہی وجہ تسمیہ صحیح ہے " سے علم کلام کی مختصر تاریخ - اسلام ایک تبلیغی اور عالمگیر مذہ ہے، اور اسکی بنیا د دلیل اور بیریان پر رکھی گئی ہے۔ملاحظہ ہو رسالہ الفرقان ریجہ۔جولائی شا له من ، مارچ ۱۶ ۲۵۰ : و علم الکلام از شبلی نعمانی ۲۰-۴۲۰