کسر صلیب — Page 14
۱۴ وبالجملة فموضوع علم الكلام عند اهله انما هو العقائد الإيمانية يعرف منها صحيحة من الشرع من حيث يمكن أن يستدل عليها بالادلة العقلية فترفع البدع وتزول الشكوك والشبهه عن تلك العقائد لم - یعنی متکلمین کے نزدیک علم کلام کا موضوع ایمانی عقائد ہیں تا کہ عقلی دلائل کے ساتھ ان کے بارہ میں استدلال کیا جائے اور بدعتوں شکرک اور شبہات کو زائل کیا جا سکے۔علامہ موصوف نے صرف عقلی دلائل سے استدلال کا ذکر اس وجہ سے کیا ہے کہ ان کے نزدیک علم کلام کی تعریف ہی یہی ہے کہ صرف عقلی دلائل سے عقائد پر استدلال کیا جائے۔علیم کلام کی وجہ تسمیہ علم کلام کی وجہ تسمیہ کے بارہ میں مختلف ، قیاس آرائیاں کی گئی ہیں۔مثلاً ١ - بعض کا یہ خیال ہے کہ یہ علم چونکہ منطق کی بنیاد پہ ایجاد ہوا اور منطق کے معنے بھی بولنے اور کلام کرنے کے ہیں بیس منطق اور کلام کے مشترک معنوں کی وجہت اس علم کو یہ نام دیا گیا۔۲ - بعض کا یہ خیال کہ چونکہ اسی علم میں مباحث کا اصل عنوان کلام الہی یعنی قرآن مجید تھا۔اس لئے اس سار سے علم کو بھی کلام ہی کا نام دیا گیا۔۔۳ - ایک خیال یہ ہے کہ چونکہ یہ علم انسان کو گفتگو اور کلام پر قادر بتاتا ہے اور اس کو دلائل کے بیان میں قوت گویائی عطا کرتا ہے۔اس لئے اس کا نام کلام رکھا گیا ہے۔گویا کو مستقیب کا نام دیا گیا ہے۔۴۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ پونکہ ہر علم کو سیکھنے یا سکھانے کے لئے بولنے یعنی کلام کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ علم گویا سب علوم کے لئے بنیاد کے طور پر ہے اس لئے اس علم کا نام ہی کلام نہ کھو دیا گیا ہے۔-۵- بعضوں نے یہ کہا کہ چونکہ دونوں جانب فریقین سے کلام کہنی پڑتی ہے اور ہرد و جانب کے دلائل کو سننا، بیان کرنا اور نہ کر نا یہ نا ہے۔اس وجہ سے اس کا نام کلام رکھا گیا ہے۔4 - ایک وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ لفظ کلام كَادَ يَكُدُ و گانا سے مشتق ہے جسے کسی معنے زخم لگانے کے ہیں۔چونکہ اس علم میں دلائل قاطعہ اور صحیح واضحہ سے باقی مذاہب کا رد۔مجھے ل : مقدمه ابن خلدون ۳۶۹ ۳۰۰ (مصری) -