کسر صلیب — Page 13
۱۳ " تمام مذہبی مقدمات میں بھی یہی ایک قانون قدیم سے چلا آتا ہے کہ جب کسی بات میں دو فریق تنازعہ کر تے ہیں تو اول منقولات کے ذریعہ سے اپنے دو کرتے تنازعہ کو فیصلہ کرنا چاہتے ہیں اور جب منقولات سے وہ فیصلہ نہیں ہو سکتا تو معقولات کی طرف توجہ کرتے ہیں اور عقلی دلائل سے تصفیہ کرنا چاہتے ہیں اور جب کوئی مقدمہ عقلی دلائل سے بھی طے ہونے میں نہیں آتا تو آسمانی فیصلہ کے خواہاں ہوتے ہیں اور آسمانی نشانوں کو اپنا حکم ٹھہراتے ہیں " دستاره قیصریه ۶۲ - روحانی خزائن جلد ۱۲ ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ باں حوالوں سے پوری صراحت کے ساتھ یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ علم کلام کی صیح تعریف کیا ہے۔کیونکہ آپ کے یہ ارشادات کلامہ الامام امام الکلام کے مطابق فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں پس ان ارشادات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ علم کلام سے مراد ایسا علم ہے جس میں اپنے مذہبی عقائد کے اثبات پر اور ان کی حقانیت پر نقلی اور عقلی دلائل دئے جائیں۔اور ان عقاید پر غیروں کی طرف سے ہوتے والے اعتراضات کے مسکت اور مدلل جوابات دئے جائیں تا اپنے عقائد اور دلائل کی سچائی ظاہر ہو۔نوٹے :۔یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی تحریرات سے علم کلام کی تعریف کے ضمن میں جو استدلال کیا گیا ہے آپ کا اپنا علم کلام اس متک محدود نہیں ہے اور نہ آپ نے اس اصطلاحی علم کلام کی پابندی کو لازم قرار دیا ہے۔بلکہ آپ کا عظیم الشان اور خداداد معلم کلام ایک منفرد اور ممتاز حیثیت دیکھتا ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آپ کے آنے کے ساتھ ایک ایسے علم کلام کا آغاز ہو ا جو اپنی مثال آپ ہے۔اس اجمال کی تفصیل مقالہ کے اگلے باب میں بیان ہوگی۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اور علم کلام کا موضوع علم کلام کا موضوع ان تعریفات سے واضح ہو جاتا ہے جو علم کلام کی تعریف کے ضمن میں اوپر درج ہو چکی ہے۔بقول علامہ عبد الرحمن ابن خلدون علم کلام کا موضوع ایمانی عقائد " ہیں۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔