کسر صلیب

by Other Authors

Page 12 of 443

کسر صلیب — Page 12

عقاید کی برتری اور افضلیت کو ثابت کیا جائے۔پس جہاں تک اصولی علم کلام کی تعریف کا سوال ہے سید نا حضرت سیج پاک علیہ السلام نے علم کلام کی اس عمومی تعریف سے اتفاق فرمایا ہے۔چنانچہ آپ کی تحریرات میں ان تینوں باتوں کا عمومی بڑی باقاعدگی کے ساتھ بطریق احسن التزام کیا جاتا رہا ہے۔مسیح پاک علیہ السلام کی طرف سے اصولی علم کلام کی تعریف کے سلسلہ میں خاکسار نے جو کچھ لکھا ہے اس کی تصدیق حضور کی بہت سی تحریرات سے ہوتی ہے جن میں سے چند بطور نمونہ ذیل میں درج کرتا ہوں :- حضور علیہ السلام نے اپنی معرکۃ الآرا تصنیف براہین احمدیہ کا مقابلہ کرنے کی دعوت اپنے ہوئے فرمایا یہ مقابلہ کر نے والوں پر ضروری ہو تا کہ وہ بعرض مقابلہ دلائل طرقان مجید کے اپنی کتاب کی دلائل بھی پیش کریں۔اور پھر شہ پایا کہ۔" دبرا امین احمدیہ حصہ اول مت روحانی خزائن جلد )) در الله اگر اس کتاب کا رد لکھنے والا کوئی ایسا شخص ہو جو کسی کتاب الہامی کا پابند نہیں جیسے یہ ہمو سماج والے ہیں تو اس پر صرف یہی واجب ہوگا جو ہماری سب دلائل کو نمبردار توڑ کر رکھ دیو سے اور اپنے مخالفانہ خیالات کو بمقابلہ ہمارے سے عقائد کے عقلی دلائل سے ثابت کر کے دکھلا د ہے" د پرا مین احمدیہ حصہ اول طنت روحانی خزائن جلد ) اور عقلی دلائل کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :- علیہ دلیل سے مراد ہماری عقلی دلیل ہے کہ جس کو معمولی لوگ اپنے مطالب کے اثبات میں پیش کرتے ہیں۔کوئی کتھا یا قصہ یا کہانی مراد نہیں ہے کہ ابراین احمدیہ حصہ اول مشت - روحانی خزائن جلد ) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک کسی عقیدہ کو پایہ ثبوت تک پہنچانے کے لئے یا کسی دوسرے کے عقیدہ کو رد کرنے کے لئے نقلی دلائل کے ساتھ ساتھ عقلی و انگل کا پایا جانا بھی ضروری ہے۔نیز مد مقابل کے اعتراضات اور اس کے دلائل کو توڑنا بھی ازم آتا ہے۔ایک اور موقعہ پر حضور نے تحریر فرمایا ہے :-