کسر صلیب — Page 172
۱۷۲ نہیں ہوا کرتا۔بلکہ ہر دعوی کو ثابت کرنے کے لئے مضبوط دلیلوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔لیکن اگر معاملہ ایسا ہو کہ جس شخص کے بارہ میں ایک بات بیان کی جاتی ہے وہ خود تو نہ صرف یہ کہ اس بات کا مدعی نہیں بلکہ صاف طور پر انکار کرتا ہے لیکن دوسرے لوگ ایک بہت بڑا دعوی اس کی طرف منسوب کریں۔اور خواہ مخواہ اس کے سر پہ تھوپنے کی کوشش کریں تو اس صورت میں مدعی سست اور گواہ چست والی مثال صادق آئے گی۔یہی صورت یہاں پر ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے کبھی دعوی الوہیت نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اس کی پیوند در تردید کی ہے۔لیکن افسوس ہے ان عیسائیوں پر جو بغیر کسی دلیل کے اتنے عظیم دعوئی کو ایک ایسے وجود کی طرف منسوب کرنے سے نہیں شرماتے جو ایسے دعوی سے اپنی دست برداری کا اعلان کرتا ہے۔اور دلی "+ بیزاری کا اظہارہ کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس ولی کو بیان فرمایا ہے۔آپ حضرت مسیح علیہ السلام کے ذکر میں فرماتے ہیں :۔در مسیح نے کہیں اپنی خدائی کا دعوئی نہیں کیا یہودیوں کے پتھراؤ کرنے پر اور اس کفر کے الزام پر ان کا قولی در کتابی محاورہ پیش کر کے نجات پائی۔اپنی خدائی کا کوئی ثبوت نہ دیا ہے نیز فرمایا : " انہوں نے اپنی نسبت کوئی ایسا دعویٰ نہیں کیا جس سے وہ خدائی کے مدعی ثابت ہوں ؟ پھر آپ نے فرمایا : یاد رکھو کہ خدائی کے دعوئی کی حضرت مسیح پر سراسر تہمت ہے انہوں نے ہر گز ایسا دعویٰ نہیں کیا سے عیسائی حضرات بعض اوقات کچھ حوالے پیش کرتے ہیں جن کے بعض الفاظ سے وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ گویا مسیح نے الوہیت کا دعوی کیا تھا۔اس کی جواب میں مسیح پاک علیہ السلام فرماتے ہیں:۔" جس قدر ان کے کلمات ہیں جن سے ان کی مندائی سمجھی جاتی ہے ایسا سمجھنا غلطی ہے۔اسی زنگ کے ہزاروں کلمات خدا کے نبیوں کے حق میں بطور استعارہ اور حجاز کے ہوتے ہیں۔ان سے خدائی نکالنا کسی عقلمند کا کام نہیں بلکہ انہی کا کام ہے جو خواہ مخواہ انسان کو خدا بنانے کا شوق رکھتے ہیں “ “ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس سارے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے کبھی خدا ہو نے :- ملفوظات جلد سوم ے لیکچر سیالکوٹ مت روحانی خزائن جلد ۲۰ به لیکچر سیالکوٹ م روحانی خزائن جلد ۲۰ شه :- را