کسر صلیب

by Other Authors

Page 11 of 443

کسر صلیب — Page 11

1) مسلمانوں پر ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ اپنے ایمان کی کمزوری اور بہتوں کی بستی کی وجہ سے غیر مذاہت کے اعتراضات سے کنارہ کشی کرنے لگے تھے۔علامہ شبلی نعمانی اپنے مسلک کی تائید اور اس زمانے کے علماء کے طرز فکر کو ہدف تنقید بتاتے ہوئے لکھتے ہیں :- بزرگان سلف نے نہایت لیے تقصی کے ساتھ معترضوں کے ہر قسم کے اعتراض کو سُنا اور اُن کو اپنی تصنیفات میں درج کر کے ان کے جواب دیئے۔بخلاف اس کے ہمارے علماء یہ تلقین کرتے ہیں کہ دشمن کہ آتا دیکھ کہ اپنی آنکھیں بند کر لینی چاہئیں " درست وقف یہی ہے کہ مخالفین کے اعتراضات کو بھی اہمیت دی جائے اور پھر لوری قوت اور بصیرت کے ساتھ ایسے مسکت دلائل دئے جائیں جو مد مقابل پر اس کے اعتراضات کی لغوثیت کو واضح کر دیں۔اس طریق سے جہاں ایک طرف اعتراضات کے جواب مل جانے سے اپنے عقائد کی پختگی اور صحت کا علم ہوتا ہے وہاں پر اہل ایمان کے دلوں میں اپنے مذہب کی پر یقین اور نور بصیرت بھی ترقی کرتا ہے۔پس یہی مذہب ہر لحاظ سے بہتر اور مفید ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا موقف خاکسار نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام تصانیف اور ملفوظات پر ایک نظر والی ہے۔لیکن علم کلام کی تعریف کے طور پر حضور کا کوئی حتمی ارشاد خاکسار کی نظر سے نہیں گذرا۔اس لحاظ سے یہ کہنا درست ہے کہ مسیح پاک علیہ السلام نے معین الفاظ میں علم کلام کی کوئی تعریف تحریر نہیں فرمائی۔تاہم اگر مسیح پاک علیہ السلام کی تحریرات کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے اور بحیثیت مجموعی آپ کے علم کلام کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے ذہن میں اصطلاحی علم کلام سے ایک ایسا علم مراد ہے جس میں :- ا ہر قول کی بنیاد دلیل پر ہو اور پھر عقائد کے اثبات کیلئے ٹھوس اور واضح دلائل بیان کئے جائیں۔-۲ دلائل میں عقلی اور نقلی ہر دو قسم کے دلائل پیش کئے جائیں۔جو لوگ کسی الہامی کتاب کے پابند نہیں ان کے لئے صرف عقلی دلائل بیان کئے جائیں۔- مذاہب باطلہ کی طرف سے کئے جانے والے دلائل کا رہ ذکیا جائے اور اس کے مقابل پر اپنے -☑ ه - الکلام از شیلی مشت: