کسر صلیب — Page 159
109 اب (سم) صاف ظاہر ہے کہ اگر پولوس حضرت مسیح کے بعد ایک رسول کے رنگ میں ظاہر ہونے والا تھا جیسا کہ خیال کیا گیا ہے توضرور حضرت مسیح اسکی نسبت کچھ خبر دیتے۔خاص کر کے اس وجہ سے تو خبر دینا نہایت ضروری تھا کہ جبکہ پولوس حضرت عیسی کی حیات کے تمام زمانہ میں حضرت عیسی سے سخت برگشتہ رہا۔اور ان کے دُکھ دینے کے لئے طرح طرح کے منصو بے کرتا رہا تو ایسا شخص ان کی وفات کے بعد کیونکہ امین سمجھا جا سکتا ہے۔بجز اس کے کہ خود حضرت مسیح کی طرف سے اس کی نسبت کھلی کھلی پیشگوئی پائی جائے اور اس میں صاف طور پر درج ہو کہ اگر چہ پولوس میری حیات میں میرا سخت مخالف رہا ہے اور مجھے دکھ دیتا رہا ہے لیکن میرے بعد وہ خدا تعالیٰ کا رسول اور نہایت مقدس آدمی ہو جائے گا۔بالخصوص جبکہ پولوس ایسا آدمی تھا کہ اپنی موسیٰ کی توریت کے برخلاف اپنی طرف سے نئی تعلیم دی۔سور حلال کیا۔ختنہ کی ریم تو توریت میں ایک موکد رسم تھی اور تمام نبیوں کا ختنہ ہوا تھا اور خود حضرت مسیح کا بھی ختنہ ہوا تھا۔وہ قدیم حکم اپنی منسوخ کر دیا اور توریت کی توحید کی جگہ تثلیث قائم کر دی اور تو ریت کے احکام پر عمل کرنا غیر ضروری ٹھہرایا اور بیت المقدس سے بھی انحراف کیا تو ایسے آدمی کی نسبت جنسی موسوی شریعت کو زیر و زبر کر دیا۔ضرور کوئی پیش گوئی چاہیے تھی۔پس جبکہ انجیل میں پولوس کے رسول ہونے کے بارہ میں خبر نہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام سے اس کی عداوت ثابت ہے اور توریت کے ابدی احکام کا وہ مخالف تو اس کو کیوں اپنا مذہبی پیشوا بنایا گیا ؟ کیا اس پر کوئی دلیل ہے ؟ ان حوالوں سے ظاہر ہے کہ پولوس کی روایت اور ایجاد پر شکیت اور دیگر عقائد کو اختیار کر ناسراسر نادانی اور جہالت ہے۔ستر اوین دلیل تثلیث کے خلاف سترہویں دلیل یہ ہے کہ عیسائی لوگ تثلیث کی نہ تو کوئی واضح صورت اور وضاحت پیش کرتے ہیں اور نہ کر سکتے ہیں اور نہ اس بات کا امکان تسلیم کر تے ہیں کہ ایسی دن امت 1 چشم مسیحی ما ۲۶ روحانی خزائن جلد ۲۰ : ۲۶-۴۵