کسر صلیب — Page 158
۱۵۸ عقائد کی اساس نہیں قرار دیا جا سکتا ہے مسیحی مصنفین کے واضح بیانات کو چھوڑتے ہوئے تین صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان بیانات پر اکتفا کرتا ہوں جن میں حضور نے پولوس کے قول کے محبت نہ ہونے کے دلائل بیان فرمائے ہیں۔آپ تحریر فرماتے ہیں : (1) پولوس کا حال آپ سے پوشیدہ نہیں جو فرما تے ہیں کہ یں یہودیوں میں یہودی اور غیر قوموں میں غیر قوم ہوں یا اے (۲) پولوسی حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی میں آپ کا جانی دشمن تھا اور پھر آپ کی وفات کے بعد جیسا کہ یہودیوں کی تاریخ میں لکھا ہے اس کے عیسائی ہونے کا موجب اس کے اپنے بعض نفسانی اغراض تھے جو یہودیوں سے وہ پور سے نہ ہو سکے اسلئے وہ ان کو خرابی پہنچانے کے لئے عیسائی ہو گیا اور ظاہر کیا کہ مجھے کشف کے طور پر حضرت مسیح ملے ہیں اور میں ان پر ایمان لایا ہوں اور اس نے پہلے پہل تثلیث کا خواب پورا دمشق میں لگایا اور یہ پولوسی تثلیت دمشق سے ہی شروع ہوئی ہ سے (۳) پولوس بھی مکفرین کی جماعت میں داخل تھا جب نہی بعد میں اپنے نیکی رسول مسیح کے لفظ سے مشہور کیا۔یہ شخص حضرت مسیح کی زندگی میں آپ کا سخت دشمن تھا۔۔۔اس شخص کے گذشتہ چال چلین کی نسبت لکھنا ہمیں کچھ ضرورت نہیں کہ عیسائی خوب جانتے ہیں۔افسوس ہے کہ یہ وہی شخص ہے جنسی حضرت مسیح کو جب تک وہ اس ملک میں رہے بہت دکھ دیا اور جب وہ صلیب سے نجات پا کہ کشمیر کی طرف چلے آئے تو اس نے ایک جھوٹی خواب کے ذریعہ سے حواریوں میں اپنے تئیں داخل کیا اور تثلیث کا مسئلہ گھڑا اور عیسائیوں پر سٹور کو جو توریت کے رو سے ابدی حرام تھا حلال کر دیا۔اور شراب کو بہت وسعت دیدی اور انجیلی عقیدہ میں تثلیث کو داخل کیا تا ان تمام بدعتوں سے یونانی بت پرست خوش ہو جائیں " سے -:- جنگ مقدس من روحانی خزائن جلد سے: چشمه سیبی مثل به روحانی خزائن جلد ۲۰ : ا کشتی نوح مثلا - روحانی خزائن جلد ۱۹ :